سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 353 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 353

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۳ دیکھا ہے ایسی کسی چیز پر برہم نہیں ہوتے جیسے جب سن لیں کہ کسی نے بچہ کو مارا ہے۔یہاں ایک بزرگ نے ایک دفعہ اپنے لڑکے کو عادتامارا تھا حضرت بہت متاثر ہوئے اور انہیں بلا کر بڑی درد انگیز تقریر فرمائی۔فرمایا ” میرے نزدیک بچوں کو یوں مارنا شرک میں داخل ہے گویا بد مزاج مارنے والا ہدایت اور ربوبیت میں اپنے تئیں حصہ دار بنانا چاہتا ہے۔“ فرمایا۔ایک جوش والا آدمی جب کسی بات پر سزا دیتا ہے اشتعال میں بڑھتے بڑھتے ایک دشمن کا رنگ اختیار کر لیتا ہے اور جرم کی حد سے سزا میں کوسوں تجاوز کر جاتا ہے۔اگر کوئی شخص خود دار اور اپنے نفس کی باگ کو قابو سے نہ دینے والا اور پورا تحمل اور برد بار اور با سکون اور باوقار ہوتو اسے البتہ حق پہنچتا ہے کہ کسی وقت مناسب پر کسی حد تک بچہ کو سزادے یا چشم نمائی کرے مگر مغلوب الغضب اور سُبک سر اور طائش العقل ہرگز سزاوار نہیں کہ بچوں کی تربیت کا متکفل ہو۔فرمایا۔جس طرح اور جس قد ر سزا دینے میں کوشش کی جاتی ہے کاش دعا میں لگ جائیں اور بچوں کے لئے سوز دل سے دعا کرنے کو ایک حزب مقرر کر لیں۔اس لئے کہ والدین کی دعا کو بچوں کے حق میں خاص قبول بخشا گیا ہے۔فرمایا۔میں التزاماً چند دعائیں روز مانگا کرتا ہوں اول اپنے نفس کے لئے دعا مانگتا ہوں کہ خدا مجھ سے وہ کام لے جس سے اس کی عزت و جلال ظا ہر ہو اور اپنی رضا کی پوری توفیق عطا کرے۔پھر اپنے گھر کے لوگوں کے لئے مانگتا ہوں کہ ان سے قرۃ عین عطا ہو اور اللہ تعالیٰ کی مرضیات کی راہ پر چلیں۔پھر اپنے بچوں کے لئے دعا مانگتا ہوں کہ یہ سب دین کے خدام بنیں۔پھر اپنے مخلص دوستوں کے لئے نام بنام اور پھر ان سب کے لئے جو اس سلسلہ سے وابستہ ہیں خواہ ہم انہیں جانتے ہیں یا نہیں جانتے۔اور اسی ضمن میں فرمایا۔حرام ہے شیخی کی گدی پر بیٹھنا اور پیر بننا اُس شخص کو جو ایک منٹ بھی اپنے متوسلین سے غافل رہے۔ہاں پھر فرمایا۔ہدایت اور تربیت حقیقی خدا کا فعل ہے سخت پیچھا کرنا اور ایک امر پر اصرار کو حد سے گزاردینا یعنی بات بات پر بچوں کو روکنا اور ٹوکنا یہ ظاہر کرنا ہے کہ گویا ہم ہی ہدایت کے مالک ہیں اور