سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 352 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 352

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیرت کے اس شعبہ کے متعلق فرماتے ہیں۔۳۵۲ " آپ بچوں کی خبر گیری اور پرورش اس طرح کرتے ہیں کہ ایک سرسری دیکھنے والا گمان کرے کہ آپ سے زیادہ اولاد کی محبت کسی کو نہ ہوگی اور بیماری میں اس قدر توجہ کرتے ہیں اور تیمار داری اور علاج میں ایسے محو ہوتے ہیں کہ گویا اور کوئی فکر ہی نہیں۔مگر بار یک بین دیکھ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور خدا کے لئے اس کی ضعیف مخلوق کی رعایت اور پرورش مد نظر ہے۔آپ کی پہلوٹھی بیٹی عصمت لدھیانہ میں ہیضہ سے بیمار ہو ئی آپ اُس کے علاج میں یوں دو دوی کرتے کہ گویا اُس کے بغیر زندگی محال ہے اور ایک دنیا دار دنیا کی عرف و اصطلاح میں اولا د کا بھوکا اور شیفتہ اس سے زیادہ جانکا ہی کر نہیں سکتا مگر جب وہ مرگئی آپ یوں الگ ہو گئے کہ گویا کوئی چیز تھی ہی نہیں اور جب سے کبھی ذکر تک نہیں کیا کہ کوئی لڑکی تھی۔“ ( مصنفہ حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی صفحه ۵۴۵۳) اسی طرح صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کی علالت کے ایام میں آپ نے شبانہ روز اپنے عمل سے دکھایا کہ اولاد کی پرورش اور صحت کے لئے ہمارے کیا فرائض ہیں؟ بچوں کو سزا دینے کی ممانعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچوں کو سزا دینے کے سخت مخاف تھے۔مدرسہ تعلیم الاسلام میں جب کبھی کسی استاد کے خلاف شکایت آتی کہ اس نے کسی بچہ کو مارا ہے۔تو سخت نا پسند فرماتے اور متواتر ایسے احکام نافذ فرمائے گئے کہ بچوں کو جسمانی سزا نہ دی جاوے۔چھوٹے بچوں کے متعلق فرمایا کرتے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تو مکلف ہیں ہی نہیں پھر تمہارے مکلف کیونکر ہو سکتے ہیں۔(مفہوم) حضرت مخدوم الملت فرماتے ہیں۔بات میں بات آگئی حضرت بچوں کو سزا دینے کے سخت مخالف ہیں میں نے بارہا