سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 349
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۹ مرزا اسماعیل بیگ صاحب کا واقعہ مرزا اسماعیل بیگ صاحب جن کو بچپن سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خادم ہونے کی عزت حاصل ہے اور جن کا ذکر پہلے بھی اسی سیرت میں آچکا ہے بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑے مرزا صاحب قبلہ کے ارشاد کی تعمیل میں بعثت سے پہلے مقدمات کی پیروی کے لئے جایا کرتے تھے تو سواری کے لئے گھوڑا بھی ساتھ ہوتا تھا اور میں بھی عموماً ہمرکاب ہوتا تھا۔لیکن جب آپ چلنے لگتے تو آپ پیدل ہی چلتے مجھے گھوڑے پر سوار کرا دیتے۔میں بار بارا انکار کرتا اور عرض کرتا کہ حضور مجھے شرم آتی ہے۔آپ فرماتے کیوں؟ تمہیں گھوڑے پر سوار ہونے سے شرم آتی ہے۔ہم کو پیدل چلنے میں شرم نہیں آتی !! مرزا اسماعیل بیگ کہتے ہیں کہ جب قادیان سے چلتے تو ہمیشہ پہلے مجھے گھوڑے پر سوار کرتے۔جب نصف سے کم یا زیادہ راستہ طے ہو جاتا تو میں اتر پڑتا اور آپ سوار ہو جاتے۔اور اسی طرح عدالت سے واپس ہونے لگتے تو پہلے مجھے سوار کراتے اور بعد میں آپ سوار ہوتے۔اور جب خودسوار ہوتے تو گھوڑا جس چال سے چلتا تو اسی چال سے چلنے دیتے ایسا ہوتا گویا با گوں کا اشارہ بھی نہیں ہوا۔اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے عام خدام سے بھی کیسا اعلیٰ درجہ کا برتاؤ کرتے تھے اور سواری میں ان کو نصف کا شریک رکھتے۔اور باوجود ان کے انکار کرنے کے بھی گوارا نہ کرتے کہ وہ پیدل چلیں۔مساوات کی یہ بے نظیر شان ہے۔یہ ایک ہی واقعہ نہیں۔میں نے سوانح حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں مرزا میراں بخش صاحب کا واقعہ بھی لکھا ہے۔غرض ہر طرح آپ اپنے خدام سے سلوک فرماتے اور کبھی کسی کو حقیر نہ سمجھتے تھے اور عام برتا ؤ اور سلوک میں مساوات کے پہلو کو غالب رکھتے۔خط وکتابت میں بھی آپ کے یہی امر ملحوظ رہتا۔ہر شخص کو اخویم“ کے لفظ سے خطاب کرتے۔اور عزت اور تکریم کے الفاظ سے یاد کرتے اور اپنی ذات کے لئے ہمیشہ خاکسار کا