سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 346
رت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۶ اس دن جبکہ لوہڑی کا تہوار تھا کچھ ہندولڑکیاں اچھے کپڑے پہن کر اپنی رسم کے مطابق گول کمرے کے آگے سے نکلیں۔اس وقت گول کمرے کے آگے احاطہ نہ تھا۔اور نہ صحن تھا۔گول کمرہ میں پریس لگوایا گیا تھا۔میاں شمس الدین صاحب نے کسی سے دریافت کیا کہ آج کیا ہے۔جب ان کو بتایا گیا کہ لو ہڑی کا تہوار ہے تو انہوں نے جھٹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور ایک درخواست لکھ کر پیش کر دی کہ آج مجوس کا تہوار ہے اور انعام چاہا۔حضرت مسیح موعود" باہر آئے اور ان کو سمجھایا کہ یہ تم نے کیا حرکت کی ہے۔آپ نے ان کے اس فعل کو پسند نہ فرمایا۔مگر از راہ کرم کچھ دے دیا۔جہاں تک مذہبی غیرت کا سوال تھا۔اس حد تک آپ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو مد نظر رکھ کر ان کو مناسب اور احسن طریق پر ایسے امور میں کسی قسم کی شرکت اور تعلق سے منع کیا۔اور دوسری طرف جہاں تک سوال و عطا کا پہلو تھا۔آپ نے پسند نہ فرمایا کہ ان کے سوال کو رد کر دیں۔میاں شمس الدین صاحب کے ساتھ حضور نے یہ سلوک کیا کہ جب تک وہ زندہ رہے ان کو کھا نالنگر خانہ سے ملتا رہا۔اور اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً نقدی سے بھی مدد فرماتے رہتے تھے۔وہ اخیر عمر میں نابینا ہو گئے تھے۔ان کے بچے کی تعلیم میں بھی مدرسہ تعلیم الاسلام میں سہولتیں مہیا کر دینے کا آپ نے ارشاد فرمایا ہوا تھا۔خدام سے حسن سلوک پر جامع بیان خدام سے حسن سلوک کے متعلق جس قدر واقعات اور حالات میں او پر لکھ چکا ہوں اگر چہ یہ شمه از شمائل اور قطره از دریا ہے۔مگر ایک بصارت رکھنے والے عارف اور طالب کے لئے اس میں بہت بڑے سبق ہیں اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی اور سیرت میں اپنے لئے ایک صراط مستقیم ہی نہیں بلکہ ایک خدا نما طریق عمل پاتا ہے۔میں اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس خلق کے متعلق ایک جامع بیان کے طور پر تبصرہ کر دینا چاہتا ہوں تا کہ محض واقعات تک ہی یہ امر محدود نہ رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کبھی خدام کو خواہ وہ آپ کے تنخواہ دار ملازم تھے یا آپ کے