سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 341
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۱ گو حکیم صاحب قبلہ بہت ہی متحمل مزاج اور سیر چشم واقعہ ہوئے تھے۔اور ہر طرح نرمی اور لطف کا برتاؤ کرتے۔مگر آزادی اور پابندی بھی آخر کچھ فرق رکھتی ہے۔رواداری اور چشم پوشی کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔اور حکیم صاحب کے تحمل و بردباری کی حد سے بات باہر ہوگئی۔وہ نہایت افسوس کے ساتھ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور شکایت کی کہ مرزا اسماعیل بیگ صاحب تنگ کرتے ہیں۔یہ غلطی کرتے ہیں۔وہ تکلیف دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہایت توجہ سے ان شکایات کو سنا اور حضرت حکیم صاحب غالباً سمجھتے تھے کہ کوئی سخت سزا کا حکم فرمایا جائے گا۔لیکن آپ نے ساری روداد سن کر فرمایا۔حکیم صاحب! با ہمیں مردمان باید ساخت دوسرے بھی تو آدمی ہی ہوں گے اگر یہ کسی اعلیٰ درجہ کے کام کے اہل ہوتے تو یہ کام ہی کیوں کرتے۔یہ کئی برسوں سے میرے پاس کام کرتے آئے ہیں۔آخر کام ہوتا ہی آیا ہے۔یہ پرانے لوگ ہیں۔آپ چشم پوشی سے کام لے لیا کریں۔حکیم صاحب اور دوسرے لوگوں کے ایمان میں جو ترقی ہو سکتی تھی وہ ظاہر ہے اور حکیم صاحب کو جو سبق اس شکایت سے حاصل ہوا اس نے مُدَّةُ الْعُمُر انہیں شکایت کرنے سے باز رکھا۔اور باوجود یکہ انہیں بعض اوقات سخت تکلیف ہوتی تھی مگر وہ نہایت عالی حوصلگی اور صبر سے کام لیتے تھے۔خادموں سے حسن سلوک کے متعلق یہ شکایت انہیں اکسیر بنا گئی۔میں نے اوپر کہا ہے کہ یہی نہیں کہ آپ اپنے خدام کی خطاؤں سے درگز رفرماتے بلکہ ان کے تھوڑے سے عمدہ کام پر ہرقسم کی خاطر داری فرماتے۔منشی غلام محمد کاتب کے ساتھ سلوک منشی غلام محمد امرتسری ایک اچھے کا تب تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابتدا میں منشی امام الدین صاحب امرتسری سے کام لیا کرتے تھے۔چنانچہ براہین احمدیہ کی پہلی تین جلدیں، شحن حق، سرمه چشم آریہ وغیرہ اسی کی لکھی ہوئی ہیں۔آئینہ کمالات اسلام کا ایک بڑا حصہ بھی اسی نے لکھا تھا۔مگر