سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 340 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 340

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۰ کام لینے پر داد و دہش فرماتے۔اور ان کو خوش رکھنے کے لئے ہر طرح کوشش فرماتے تھے۔اور نہ صرف اپنے ذاتی ملازموں یا خادموں کے متعلق یہ مدنظر رکھتے بلکہ ان لوگوں کے متعلق بھی یہی امر ملحوظ خاطر رہتا۔جو دوسروں کے ماتحت کر دیئے گئے تھے۔حضرت حکیم فضل دین صاحب مرحوم اور ملازمین پریس کا سوال ابتدا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام براہِ راست خود پریس کی نگرانی اور انتظام فرماتے تھے۔لیکن جوں جوں آپ کی مصروفیت بہت بڑھتی گئی اور حضرت حکیم فضل دین صاحب بھیروی ہجرت کر کے قادیان تشریف لے آئے۔تو آپ نے پریس کا انتظام حکیم صاحب کے سپرد کر دیا۔پریس کا کام مرزا اسماعیل بیگ صاحب اور ان کے بھائی بند کرتے تھے۔مرزا اسماعیل بیگ حضرت صاحب کی خدمت میں ایک عرصہ دراز سے بطور خادم کام کرتا تھا۔پہلے وہ ایک عام خادم کی طرح کام کرتے تھے۔زمینوں کا انتظام اور دوسرے کا روبار۔بعض کتابیں اور اشتہار وغیرہ چھپوانے کے لئے بھی ان کو ہی حضور بھیج دیا کرتے تھے۔اور پھر یہ انتظام ہوا کہ قادیان میں ضیاء الاسلام پریس قائم کر کے اس میں چھاپنے کا کام مرزا اسماعیل بیگ صاحب کو دے دیا۔جب تک یہ کام براہِ راست حضرت اقدس کی نگرانی اور انتظام میں رہا۔حالت بالکل اور تھی۔گویا ایک چھوٹی سی مملکت تھی جس کے مُطلق العنان بادشاہ مرزا اسماعیل بیگ تھے۔لیکن جب یہ کاروبار انتظامی حیثیت سے حکیم صاحب کے سپرد ہوا تو حالات میں یکدفعہ پلٹا ہوا۔حکیم صاحب کے لئے کام نیا تھا۔مگر ان کی تاجرانہ فراست اور تجربہ کاری نے جلد اس کام کے مالی پہلوؤں کو سمجھ لیا۔انہوں نے اپنی انتہائی اقتصادی اور انتظامی تجربہ کاری سے کام لینا چاہا۔ادھر مرزا اسماعیل بیگ صاحب کی آزادی اور مطلق العنانی میں فرق آیا۔اور سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اخلاق اور آپ کے فیاضانہ اور محسنانہ طریق عمل کا لطف اٹھایا ہوا تھا۔کوئی شخص خواہ کتنا بھی کمال لطف و کرم میں کرتا۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عمل کے ادنی ترین شعبہ تک بھی نہ پہنچ سکتا۔