سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 339
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۹ مصروف ہو گئے۔پیرا کو بھی خبر ہوئی وہ اس وقت مٹی گارے کا کوئی کام کر رہا تھا۔پاؤں کیچڑ میں کت پت تھے۔اسی حالت میں مسجد میں چلا آیا۔آگے دری تھی اور یہ قدرتی امر تھا کہ اُس کی اس حالت سے پاس والوں کے کپڑے اور دری کا فرش خراب ہوتا۔اس ہیئت کذائی سے وہ آگے بڑھا اور حضرت کو دبانے لگا۔بعض نے اس کو کہا کہ تو کس طرح آگیا۔تیرے پاؤں خراب ہیں مگر اس نے کچھ نہیں سنا اور حضرت کو دبانے لگا حضرت نے فرمایا۔اس کو کیا خبر ہے۔جو کرتا ہے کرنے دو کچھ حرج نہیں۔اُس کی یہ پہلی حرکت نہ تھی وہ ہمیشہ اپنی بے وقوفی یا سادگی سے دوسروں کا معتوب ہوسکتا تھا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے کبھی نہیں ڈانٹا اور نہ دھمکایا۔بعض خادموں پر خفا ہونے کی نظیر بھی حضور کی زندگی میں ملتی ہے۔مگر وہ ایسی نظیر ہے کہ اس کی مثال بھی تلاش سے نہ ملے گی۔اسی پیرا کی بیماری کے علاج کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مخدومی اکبر خان صاحب سنوری کو مقرر کیا تھا اور اس کو جونکیں لگوانے کا حکم دیا۔انہوں نے بہت تلاش کیا کوئی جونکیں لگانے والا نہ مل سکا۔حضرت اس پر ناراض ہوئے کہ کیوں بٹالہ وغیرہ سے جا کر کسی کونہ لائے۔یہ پیرے کے علاج میں ایک قسم کی غفلت کے نتیجہ میں حضور کی ناراضگی تھی۔یوں اگر کوئی کام کسی سے خراب ہو جاتا۔اور جس کا اثر براہ راست حضرت کی ذات پر پڑتا تھا تو اس کے لئے آپ اپنے خادموں پر ناراض نہ ہوتے۔بلکہ ان کی دلداری کرتے۔ایک نادان تعزیرات پر زور دینے والا شاید انتظامی پہلو سے اسے پسند نہ کرے۔مگر وہ نہیں جانتا کہ عفوا اور چشم پوشی بعض اوقات اتناز بر دست علاج کمزوریوں کا ہے۔جو تعزیرات سے وہ بات حاصل نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ کی صفت میں آتا ہے يَعْفُوا عَنْ كَثِيرِ (المائدة :۱۲)۔تو تَخَلَّقُوا بِاَخْلَاقِ اللهِ کی تعلیم دینے والے معلم کی عملی زندگی میں اس کا نمونہ لازمی ہے۔آپ اپنے خدام کی کمزوریوں سے بشرطیکہ وہ دین اور مذہب کے عملی حصہ پر مؤثر نہ ہوں۔یا ان سے استخفاف شریعت نہ ہوتا ہو۔خوردہ گیری کرنے کے عادی نہ تھے۔اور وقتاً فوقتاً اُن سے ذرا بھی زائد