سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 338
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۸ اور فرصت ہوئی تو انشاء اللہ علیحدہ لکھوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اخلاق اور برتاؤ کا جو حضور حافظ صاحب سے کرتے تھے ان پر ایسا اثر تھا کہ وہ بار ہا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے میں نے تو ایسا انسان کبھی دیکھا ہی نہیں بلکہ زندگی بھر حضرت کے بعد کوئی انسان اخلاق کی اس شان کا نظر نہیں آتا تھا۔حافظ صاحب کہتے تھے کہ مجھے ساری عمر میں کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہ جھڑ کا اور نہ بختی سے خطاب کیا۔بلکہ میں بڑا ہی سُست تھا اور اکثر آپ کے ارشادات کی تعمیل میں دیر کر دیا کرتا تھا۔با ایس سفر میں مجھے ہمیشہ ساتھ رکھتے۔اور میں نے خود دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حافظ حامد علی صاحب کو حاضر غائب اسی پورے نام سے پکارتے یا میاں حامد علی کہتے۔ایک شخص بہ حیثیت خادم آپ کی خدمت میں عمر کا بہت بڑا حصہ گزارتا ہے۔وہ خوداعتراف کرتا ہے کہ وہ اپنے کاموں میں سُست تھا مگر یہ خدا کا برگزیدہ کبھی اسے جھڑ کہتا نہیں بلکہ ہمیشہ اس کے ساتھ محبت اور ہمدردی کا برتاؤ کرتا ہے۔پیرا کا واقعہ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خادموں میں ایک پیرا پہاڑ یا تھا۔جو بالکل جاہل اور اجد آدمی تھا۔اس کے دیکھنے والے بہت موجود ہیں۔اس سے بے وقوفی کے افعال سرزد ہونا ایک معمولی بات ہوتی تھی۔مگر حضرت نے اُسے کبھی جھڑ کا تک نہیں بلکہ اس کے متعلق فرمایا کرتے کہ اَهْلُ الْجَنَّة ہے۔ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بیماری کا دورہ ہوا۔باوجود یکہ گرمی کا موسم تھا۔ہاتھ پاؤں سرد ہو گئے۔اوپر مسجد کی چھت پر بعد نماز مغرب تشریف فرما تھے۔احباب فوری تدابیر میں