سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 337
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۷ کی جنگ کی چنگاری خطرناک دھمکی دے رہی ہے۔اس عقدہ کا حل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں نظر آئے گا۔اور میں واقعات کی روشنی میں دکھاؤں گا کہ آپ ملازموں اور خادموں سے کیا سلوک کیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود کو ہمیشہ خادم میسر تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خاندانی وجاہت اور حالت خدا کے فضل سے ایسی تھی کہ ہمیشہ آپ کے گھر میں ایک سے زیادہ خادم رہا کرتے تھے۔اور خود آپ کی ذات کے لئے بھی ایک دو خدمت گار رہتے ہیں۔خادم سے سلوک مگر کبھی آپ نے اُن خادموں کے ساتھ کسی قسم کا بھی بُرا سلوک نہیں کیا۔ہر چند وہ آپ کے خادم اور ملا زم ہوتے تھے مگر آپ اُن کے ساتھ برادرانہ اور مساویانہ برتاؤ کرنے کے عادی تھے۔آپ کی زندگی میں کوئی ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ملتا جس سے یہ پایا جا تا ہو کہ آپ نے اپنے ملازموں سے بدسلوکی تو در کنار سختی سے بھی برتاؤ کیا ہو بلکہ آپ کی زندگی کا پُر غور مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ آپ ملازموں کو اللہ تعالیٰ کا ایک فضل اور رحم سمجھا کرتے تھے۔اور اس فضل کے شکریہ کے لئے ان سے ہمیشہ اخلاق اور محبت سے پیش آتے تھے۔حافظ حامد علی صاحب مرحوم کا ذکر خیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے خادموں میں سے ایک حافظ حامد علی صاحب مرحوم تھے۔وہ حضرت اقدس کی خدمت میں عرصہ دراز تک رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد صدر انجمن احمدیہ نے آخر عمر میں انہیں پینشن دے دی تھی۔اور وہ قادیان میں رہنے کے لئے ایک مختصری دوکان کرتے تھے۔اب مقبرہ بہشتی میں آرام فرماتے ہیں۔ان کے حالات زندگی توفیق ربّی