سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 336
برت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۶ خدام سے حسنِ سلوک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شمائل و اخلاق کی پہلی جلد میں خدام سے عفو و درگزر کے عنوان کے تحت میں بعض واقعات لکھ چکا ہوں۔لیکن یہ ایک مستقل عنوان بجائے خود ہے۔جس کے تحت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خدام کے ساتھ عام سلوک کا ذکر کروں گا۔اس میں خدام سے مراد وہ لوگ ہیں جو خصوصیت سے آپ کے تنخواہ دار خادم تھے۔اور وہ لوگ بھی جو حضور کے ساتھ تعلقات ارادت رکھتے ہوئے آپ کے خادم کہلانے پر فخر کرتے ہیں۔آقا اور نوکر کے تعلقات آقا اور نوکر کے تعلقات اس قسم کے ہوتے ہیں کہ اس میں بڑے بڑے آدمیوں کو دیکھا ہے کہ اخلاقی ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔آقا یہی سمجھتا ہے کہ جو شخص ہماری خدمت اور ملا زمت میں ہے۔قدرت نے نعوذ باللہ اس کو انسان نہیں بلکہ جانور بنا دیا ہے اور جو خدمت اس سے جس وقت چاہیں لیں وہ تکلیف اور تکان کے اثروں سے محفوظ ہے۔اور اس کے جذبات اور حسیات کا تو قطعا خیال نہیں کرتے احترام کرنا تو در کنار۔جن الفاظ میں چاہیں اس کو خطاب کریں۔غرض یہ ایسا کھلا ہوا معاملہ ہے کہ اس پر زیادہ بحث کرنے کی مجھے حاجت نہیں۔مگر خدا تعالیٰ کے ماموروں اور مرسلوں کی زندگی ایک اعجازی زندگی ہوتی ہے۔وہ چھوٹوں کو بڑے بنانے کے لئے آتے ہیں۔مامور من اللہ کی زندگی اور وہ اپنے عمل سے بتاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی مشیت نے اگر کسی کو کسی دوسرے کے ماتحت اور دست نگر بنایا ہے تو یہ ایک انتظامی امر ہے۔جس کو ہم نہیں سمجھ سکتے۔لیکن اس سے نفس انسانیت کے شرف کو کچل دینا مقصود نہیں ہوتا۔آج دنیا میں ملازموں اور آقاؤں کے سیاسی جھگڑوں نے دنیا میں ایک طوفان بے تمیزی پیدا کر دیا ہوا ہے اور دنیا کے آئندہ خرمن امن پر مزدوری اور سرمایہ داری