سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 334 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 334

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام غَاسِقُ الله ۳۳۴ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سادگی اور بے تکلفی کا ایک عجیب وغریب واقعہ درج کئے بغیر میں آگے نہیں جاسکتا۔۲۸ / جنوری ۱۹۰۳ء کی صبح کو ساڑھے چار بجے کے قریب آپ کے مشکوئے معلی میں ایک صاحبزادی امتہ النصیر نام پیدا ہوئی تھی۔جو ۳ دسمبر ۱۹۰۳ء کو فوت ہوگئی۔صاحبزادی مرحومہ کی پیدائش سے پہلے اسی شب کو ۱۲ بجے حضور کو غاسق الله الہام ہوا تھا۔حضور اسی وقت مولوی محمد احسن صاحب مرحوم کے دروازے پر تشریف لائے۔مولوی صاحب موصوف اس وقت اس حجرہ میں رہا کرتے تھے جو مسجد مبارک کی سیڑھیوں پر جا کر صحن میں کھلنے والے دروازے کے دائیں ہاتھ کو تھا۔اس وقت وہ حصہ محض ایک صحن کا رنگ رکھتا تھا اور احباب تنگی جگہ کی وجہ سے وہاں نماز پڑھا کرتے تھے۔رات کے بارہ بجے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی صاحب کے دروازے پر دستک دی۔مولوی صاحب نے پوچھا کہ کون ہے تو حضور نے جواباً فرمایا غلام احمد (علیہ الصلوۃ والسلام ) مولوی صاحب کی آواز میں خشونت تھی۔وہ گھبرا کر اٹھے اور دروازہ کھولا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس وقت آنے کا عذر کیا۔اور یہ الہام مولوی صاحب کو سنایا۔اور ایک رویا بھی سنائی۔جو اس وقت دیکھی تھی کہ حضرت حجتہ اللہ کو حضرت ام المومنین کہتی ہیں کہ اگر میرا انتقال ہو جاوے تو آپ اپنے ہاتھ سے میری تجہیز و تکفین کریں“۔یہ رویا اور الہام صاحبزادی امتہ النصیر صاحبہ کی وفات پر پورا ہو گیا۔اس وقت الحکم میں یہ واقعہ شائع کر دیا گیا تھا۔جو امر اس واقعہ میں قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ حضرت اقدس نے جب دروازہ پر دستک دی اور مولوی صاحب نے کون ہے؟ کہہ کر استفسار کیا تو آپ نے کسی تکلف سے کام نہیں لیا اور نہ خشونت آمیز آواز سن کر اظہار ملال فرمایا۔بلکہ بے وقت آکر دستک دینے پر عذر فرمایا۔میں نے ۱۴ فروری ۱۹۰۳ء کے الحکم میں جب اس واقعہ کو شائع کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے