سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 333 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 333

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۳ پیر صاحب زمین پر لیٹے پڑے ہیں۔آپ نے فرمایا۔چار پائی کہاں گئی۔“ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں۔آپ فوراً باہر تشریف لائے اور گول کمرہ کے سامنے مجھے بلایا۔کہ زمین میں کیوں لیٹ رہے ہو۔برسات کا موسم ہے اور سانپ بچھو کا خطرہ ہے۔“ میں نے سب حال عرض کیا کہ ایسا ہوتا ہے۔اور میں کسی کو کچھ نہیں کہتا۔آخر ان لوگوں کی تواضع اور خاطر و مدارت ہمارے ذمہ ہے۔یہ سن کر آپ اندر گئے۔اور ایک چار پائی میرے لئے بجھوادی۔ایک دوروز تو چار پائی میرے پاس رہی۔آخر پھر ایسا ہی معاملہ ہونے لگا۔جیسا کہ میں نے بیان کیا۔پھر کسی نے آپ سے کہہ دیا پھر آپ نے اور چار پائی بھجوادی۔پھر ایک روز کے بعد وہی معاملہ پیش آیا۔پھر کسی نے اطلاع دی۔اور صبح کی نماز کے بعد مجھ سے فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب بات تو یہی ہے جو تم کرتے ہو اور ہمارے احباب کو ایسا ہی کرنا چاہیے لیکن تم ایک کام کرو ہم ایک زنجیر لٹکا دیتے ہیں۔چار پائی میں زنجیر باندھ کر چھت میں لٹکا دیا کرو “ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم یہ سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ ایسے بھی استاد آتے ہیں جو اس کو بھی اتارلیں گے پھر آپ بھی ہنسنے لگے۔ایک روز مغرب کی نماز پڑھی گئی۔اور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس کھڑا تھا۔جب نماز کا سلام پھیرا گیا تو آپ نے بایاں ہاتھ میری دائیں ران پر رکھ کر فرمایا۔کہ صاحب زادہ صاحب اس وقت میں التحیات پڑھتا تھا۔الہاماً میری زبان پر جاری ہوا کہ صَلَّى اللهُ عَلَيْكَ وَعَلَى مُحَمَّدٌ - مولانا نورالدین صاحب مرحوم امام تھے۔پھر ان سے مخاطب ہو کر فرمایا۔تب سے میں جو بات حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کو مخاطب کر کے کہتا تھا۔تو یہ کبھی زور سے کبھی آہستہ ضرور پڑھ لیا کرتا تھا۔اور یہی عادت میری اکثر تحریر میں بھی ہے۔“ اخبار الحکم خاص نمبر بابت ۲۱ تا ۲۴ مئی ۱۹۲۴، صفحه ۵)