سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 331
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۱ تو چلے ہی جاتے ہیں۔اور ہمیں کام ہی کیا ہیں۔میں نے عرض کیا کہ حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْكَ وَعَلَى مُحَمَّدٍ مجھے کوئی تکلیف نہیں ہے۔بہت بہت سفر کیے، پہاڑی ملک میں جانا پڑا۔بدن سدھا ہوا ہے۔پھر فرمایا۔تم تو پیر ہو۔پیروں کو تو عادت ہوتی ہے کہ بغیر چار پائی اور عمدہ بستر کے نیند نہیں آتی۔میں نیچے سے تمہارے واسطے چار پائی اور بستر گد گدا اچھا سالا تا ہوں۔میں یہ سن کر خوف زدہ ہو گیا اور کانپنے لگا کہ ایسا نہ ہو کہ آپ یہ تکلیف گوارا کریں۔میں نے عرض کیا کہ حضور مجھے زمین پر سونے کی واقعی عادت ہے، کیونکہ چھ چھ ماہ اور سال سال بھر کی چلہ کشیاں کیں ہیں۔چارپائی کا نشان بھی نہ ہوتا تھا۔اور قادیان میں تو عموماً چار پائی پر یکم لیٹنا پڑتا ہے۔( یہ واقعہ میں بعد میں لکھوں گا) اور حضور تھوڑی سی بات کے واسطے تین منزلہ سے نیچے جائیں اور بوجھ لاویں۔مجھے یہ منظور نہیں۔اور نیز میرے والد صاحب شاہ حبیب الرحمن صاحب مرحوم جو حضور کے دعوی سے پہلے گزر گئے انہوں نے بھی یہ عادت ڈال دی ہے کہ اکثر زمین پر سلاتے اور سردیوں میں حالانکہ سب کچھ تھا۔گرم کپڑے نہ بنا کر دیتے۔اگر کوئی کہتا تو فرماتے کہ فقیری اور آرام طلبی جمع نہیں ہوسکتیں۔حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام اس بات کو سن کر خوش ہو گئے۔فرمایا۔تمہارے والد صاحب کا ایسا کرنا اب کام آگیا۔اور ایسا ہی چاہیے۔اور احباب کو یہی کرنا چاہیے، کہ آرام طلبی نہ ہو۔فرمایا ہمارا جی چاہتا ہے کہ ہمارے دوست و احباب ایسے بن جاویں کہ گویا فرشتے ہیں اور ابھی آسمان سے اُترے ہیں۔یہ دنیا میں ہوں مگر نہ ہوں۔پھر فرمایا کہ میں بایاں پاسا بدل لوں یعنی بائیں کروٹ لے لوں۔میں نے عرض کیا کہ حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْكَ وَعَلَى مُحَمَّدٌ بہت اچھا۔آپ سو گئے اور میں سر سے لے کر پیروں تک رہا تا ہوا آیا۔آپ کی آنکھ کھل گئی۔فرمایا۔ابھی سوئے نہیں۔دبا رہے ہو۔میں نے عرض کیا کہ میں اسی غرض سے آیا تھا۔پھر فرمایا کہ۔میں دایاں پاسا بدل لوں۔میں نے عرض کیا بہت اچھا۔آپ نے پھر کروٹ بدل لی اور میں دباتا رہا۔پھر آپ سو گئے۔اور آپ کا سونا اس طریق سے تھا کہ دو تین منٹ کبھی چار پانچ منٹ آپ سوتے