سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 324 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 324

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۴ بشنوید اے طالباں کز غیب بکنند ایں ندا مصلح باید که در هر جا مفاسد زاده اند ” جب دوسرا شعر پڑھا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیت الفکر کی در بچی یعنی کھڑکی سے چہرہ منور چمکتا ہوا نکالا۔اور دست مبارک مین لالٹین روشن شد تھی۔اور ایک لیمپ مسجد میں روشن تھا۔اللہ اکبر اس وقت کا منظر کیسا ہی مبارک اور دلکش تھا۔عین دوسرے شعر کے مصرعہ اول کے مطابق تھا۔سے درخشم چوں قمر تا بم چوٹر ص آفتاب آنکھیں چکا چوند ہوگئیں۔محمد خان صاحب مرحوم پر تو وجد کی سی کیفیت طاری ہوگئی۔ایک طرف استیلائے محبت اور ایک طرف استغراق محو نظارہ۔میں خاموش ہو رہا۔آپ بیٹھ گئے اور فرمایا۔صاحبزادہ صاحب! چپ کیوں ہو گئے پڑھو اس پر صاحبزادہ صاحب نے مکر رسہ کر را شعار کو پڑھا۔اور آپ سن کر محظوظ ہوئے اور فرمایا۔جَزَاكَ اللهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ - حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں بعض اوقات کوئی نہ کوئی نظم پڑھی جاتی تھی۔خود حضرت نے بہت ہی کم کسی کو کہا ہے کہ نظم سناؤ۔البتہ جب کوئی عرض کرتا تو آپ اجازت دیتے۔صاحبزادہ صاحب کو جو آپ نے فرمایا یہ اس حجاب اور تکلف کو رفع کرنا تھا۔جو بیکا یک حضرت کے تشریف لانے کی وجہ سے پیدا ہو گیا تھا۔آپ چونکہ جماعت کی تربیت فرمارہے تھے اور ان میں اخلاق فاضلہ اپنے عمل سے پیدا کر رہے تھے۔اس لئے ہرگز پسند نہ فرمایا کہ مجمع احباب میں جبکہ وہ ایک روحانی ذوق اٹھارہے تھے۔آپ کی تشریف آوری کی وجہ سے کوئی روک پیدا ہو۔اس لئے آپ نے ان اشعار کو سنے کا ارشاد فرما دیا۔تا کہ وہی روبے تکلفی کی قائم رہے۔اے طالبو!سنو غیب سے یہ آواز آرہی ہے کہ ایک مصلح درکار ہے کیونکہ ہر جگہ فساد پیدا ہو گئے ہیں۔