سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 320 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 320

رت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۰ کریں۔ارشاد ہوا کہ ”مجھ کو دنیا سے کیا غرض۔مجھے کو دنیا سے اس قدر تعلق ہے جس قدر اس سوار کو جو تھوڑی دیر کے لئے راہ میں کسی درخت کے سایہ میں بیٹھ جاتا ہے پھر اس کو چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میاں اللہ دین صاحب نے کہا تھا کہ یہاں کوئی دری بچھادی جاوے۔تو فرمایا ”نہیں میں سونے کی غرض سے نہیں لیٹا تھا۔کام میں آرام سے حرج ہوتا ہے اور یہ آرام کے دن نہیں ہیں۔" یہ سادگی اور دنیا کے متاع سے بے نیازی اور عادات کی بے تکلفی نہ تو اس وجہ سے تھی کہ دنیا کے عیش و آرام کی چیزیں یا اسباب میسر نہ تھے اور نہ اس لحاظ سے تھی کہ آپ جو گیا نہ اور راہبانیت کے رنگ کو پسند کرتے تھے۔اسلام راہبانیت اور اس قسم کی زندگی کا سخت دشمن ہے اور لَا رَهْبَانِيَّةَ فِي الْإِسْلَامِ “ کہ کر اس نے جو گیانہ زندگی کی تمام برائیوں کا قلع قمع کر دیا ہے اور خدا کے فضل سے ہر ایک نعمت آپ کو میسر تھی اور آپ ان سے تمتع فرماتے تھے مگر کبھی ناز و نعمت۔تکلف و عیش پرستی آپ کا شعار وشیوا نہ تھا۔ان انعام سے تمتع محض اس اکیلے مقصد کے لئے ہوتا تھا کہ خدمت دین کے لئے طاقت اور قوت میسر ہو چولا صاحب کے معائنہ کے سفر کا ایک واقعہ ڈیرہ بابا نانک میں ایک چولہ صاحب رکھا ہوا ہے۔جس پر قرآن کی آیات لکھی ہوئی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰ ستمبر ۱۸۹۵ء کو خود اُس چولے کو دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے تھے۔اگر چہ آپ نے اس سے پیشتر اپنے بعض خدام کو بھی بھیجا تھا۔کہ وہ دیکھ کر اور تحقیقات کر کے آئیں۔جب وہ واپس آئے اور حالات بیان کئے۔تو پھر خود حضرت نے بہ نفس نفیس تشریف لے جانا اور معائنہ کرنا بغرض تحقیق ضروری سمجھا۔اس سفر میں چند احباب حضور کے ہم رکاب تھے۔راستہ میں ایک جگہ آپ تشریف فرما تھے کہ بعض لوگ سن کر ملاقات کو آئے۔مگر آپ کی سادگی اور بے تکلفی نے ان میں سے بعض کو فورا شناخت کرلینے کا موقعہ نہ دیا اور انہوں نے جناب مولوی محمد احسن صاحب امروہی کو جو 66