سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 318 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 318

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھانے کی سادگی ۳۱۸ میں اس پر پہلے لکھ آیا ہوں۔یہاں زیادہ صراحت کی ضرورت نہیں۔صرف ایک امر کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔آپ عام طور پر سیب کا رس نکال کر پیا کرتے تھے۔بہت کم آپ اسے عام پھلوں کی طرح تراش خراش کر کے کھاتے۔اگر محض ذائقہ مقصود ہوتا۔تو اسے خوب طرح پر کاٹ کر اور قاش بنا کر کھاتے مگر آپ کا مقصد صرف یہ ہوتا تھا کہ یہ بحالی قوت کے لئے اور قلب کے لیے مفید ہے۔گویا بطور دوا کے استعمال کر رہے ہوتے تھے۔کوئی شخص یہ غلطی نہ کھائے کہ آپ نعوذ باللہ کسی قسم کی زینت لباس یا کھانے کے مرغن و لذیذ ہونے کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔یہ بے ہودگی ہے۔آپ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو حرام نہیں کرتے تھے۔اور خدا تعالیٰ نے جو حلال کیا اسے حلال سمجھتے ہی نہیں اپنے عمل سے دکھاتے تھے۔آپ کے لباس میں زینت کا جو درجہ ہوتا تھا وہ اپنی جگہ ہوتا تھا۔مگر جب میں کہتا ہوں کہ وہ تکلفات سے بری ہوتا تھا۔تو اس سے یہ مطلب ہے کہ فیشن کے غلاموں اور پرستاروں کی طرح وہ اس میں اپنے وقت کو ضائع نہ کرتے تھے۔اور خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا جائز شکر یہ ادا کرتے تھے۔ہاں ان تمام اشیاء سے صرف ضرورت کی حد تک فائدہ اٹھاتے تھے۔وہ چیزیں کبھی آپ کی زندگی کا مقصود اور مطلوب نہ ہوتی تھیں۔غرض آپ کے لباس، آپ کے مکان ، آپ کی خوراک ہر چیز میں سادگی تھی۔اور تکلف نہیں پایا جا تا تھا۔اور یہ نہیں کہ جب آپ قادیان میں ہوں تو ایسی حالت پائی جاتی ہو بلکہ کبھی اور کسی حال میں بھی بے جا نمود اور تکلف کے آپ عادی نہ تھے۔مباحثہ آگفتم کا ایک واقعہ مئی ۱۸۹۳ء کے اواخر میں عبد اللہ آتھم مسیحی سے امرتسر میں آپ کا تاریخی مباحثہ ہوا۔جو امرتسر کے عیسائی مشن اور سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں جنگِ مقدس کے نام سے موسوم ہے۔مجھے اس جگہ اس مباحثہ کے حالات اور واقعات کو بیان نہیں کرنا ہے۔بلکہ ایک واقعہ کا ذکر آپ کی سادگی اور بے تکلفی