سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 314 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 314

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۴ حضرت مسیح موعود کی مجلس کا رنگ " آپ کی مجلس کا رنگ ہو بہو نبوت کا (علی صَاحِبِهَا الصَّلَوةُ وَالسَّلَامُ) کا رنگ ہے۔وہ <mark>لوگ</mark> جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کے مسئلہ پر آج کج بحثیں <mark>کر</mark>تے ہیں۔وہ غور فرمائیں کہ ۱۹۰۰ء میں وہ شخص جو خدا کی وحی میں مسلمانوں کا لیڈر کہلایا۔کیا عقیدہ رکھتا ہے۔عرفانی) حضرت سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہی آپ کی انجمن تھی۔اور وہی ہر قسم کی ضرورتوں کے پورا <mark>کر</mark>نے کی جگہ تھی۔ایک درویش دنیا سے قطع <mark>کر</mark> کے جنگل میں بیٹھا ہوا اور اپنے تئیں اسی شغل میں پورا با خدا س<mark>مجھ</mark>نے والا اگر <mark>ایسے</mark> وقت میں آپ مسجد میں آجائے کہ جب آپ جہاد کی گفتگو <mark>کر</mark> رہے ہیں۔اور ہتھیاروں کو صاف <mark>کر</mark>نے اور تیز <mark>کر</mark>نے کا حکم دے رہے ہیں تو کیا وہ خیال <mark>کر</mark> سکتا ہے کہ آپ <mark>ایسے</mark> رحیم <mark>کر</mark>یم ہیں کہ رَحْمَةٌ لِّلْعَالَمِینَ ہونے کا حق اور بجاد عویٰ <mark>کر</mark> رکھا ہے اور ساری دنیا سے زیادہ خدا اور اس کی مخلوق کی رعایت رکھنے والے ہیں۔اسی طرح ایک دفع ایک شخص جو دنیا کے فقیروں اور سجادہ نشینوں کا شیفتہ اور <mark>خو</mark> <mark>کر</mark> دہ تھا ہماری مسجد میں آیا۔<mark>لوگ</mark>وں کو آزادی سے آپ سے گفتگو <mark>کر</mark>تے دیکھ <mark>کر</mark> حیران ہو گیا۔آپ سے کہا کہ آپ کی مسجد میں ادب نہیں ! <mark>لوگ</mark> بے محابا بات چیت آپ سے <mark>کر</mark>تے ہیں۔آپ نے فرمایا۔” <mark>میرا</mark> یہ <mark>مسلک</mark> نہیں۔کہ میں <mark>ایسا</mark> <mark>تند</mark> <mark>خو</mark> اور <mark>بھیانک</mark> <mark>بن</mark> <mark>کر</mark> <mark>بیٹھوں</mark> کہ <mark>لوگ</mark> <mark>مجھ</mark> سے <mark>ایسے</mark> <mark>ڈریں</mark> <mark>جیسے</mark> <mark>درندہ</mark> سے <mark>ڈرتے</mark> ہیں۔اور میں بہت <mark>بن</mark>نے سے <mark>سخت</mark> <mark>نفرت</mark> رکھتا ہوں۔میں تو <mark>بت</mark> پرستی کے رڈ <mark>کر</mark>نے کو آیا ہوں۔نہ یہ کہ میں <mark>خو</mark>د <mark>بت</mark> <mark>بن</mark>وں۔اور <mark>لوگ</mark> <mark>میری</mark> پوجا <mark>کر</mark>یں۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ میں اپنے نفس کو دوسروں پر ذرا بھی ترجیح نہیں دیتا۔میرے نزدیک متکبر سے زیادہ کوئی بہت پرست اور خبیث نہیں۔متکبر کسی خدا کی پرستش نہیں <mark>کر</mark>تا۔بلکہ وہ اپنی پرستش <mark>کر</mark>تا ہے۔“ ( مصنفہ حضرت مولانا عبدال<mark>کر</mark>یم سیالکوٹی صفحه ۴۱ ۴۲ )