سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 311
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۱ مہمانوں کو کھانا وغیرہ کھلایا کرتے تھے۔گویا انہیں ناظر ضیافت کہنا چاہیے۔وہ جب سے یہاں آئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام خاص طور پر ان کا خیال رکھتے۔اور ان کی ضروریات کا آپ تکفل فرماتے۔ایک مرتبہ حضرت نانا جان مرحوم شیخ صاحب سے ناراض ہوئے اور بے حد ناراض ہوئے۔انہوں نے ان کے قرضہ وغیرہ کی فہرست تیار کی۔ان میں حلوائیوں کا قرضہ بھی تھا۔مگر انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ وہ ادا ہو چکا ہے۔معاملہ حضرت تک پہنچا۔کہ انہوں نے حلوائیوں سے اس قدر قرضہ برداشت کیا ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سن کر ہنسے اور فرمایا کہ ” مجھے یہ معلوم ہے اور وہ قرضہ ادا ہو چکا ہوا ہے۔بلکہ ہر ہفتہ بے باق ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام شیخ صاحب کے ہفتہ وار یا جب وہ چاہیں اخراجات ادا کر دیتے تھے۔اور شیخ صاحب نہایت بے تکلفی سے جیسے بیٹا باپ سے جا کر کہتا ہے۔بلکہ اس سے بھی زیادہ بے تکلفی سے عرض کر دیتے کہ اس قدر خرچ ہو گیا ہے۔اور حضرت فوراً ادا فرما دیتے۔اس قسم کی شاہانہ اور مربیانہ فیاضیاں آپ کی ہوتی تھیں۔ختم کرتے ہوئے میں ایک اور واقعہ لکھے بغیر نہیں رہ سکتا۔خواجہ کمال الدین صاحب نے ایک قیمتی کوٹ کیونکر لے لیا خواجہ کمال الدین صاحب ( جو آج سلسلہ سے منقطع ہو چکے ہیں ) اور محسن باپ کی اولاد سے ئیر اور دشمنی رکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نوازشوں اور کرم فرمائیوں اور جود و عطاء کے بہت بڑے تجربہ کار ہیں۔بیش قرار رقوم انہوں نے لیں۔اور باوجود لینے کے کبھی اقرار نہیں کیا۔اور اپنی خدمات کی ڈینگ مارتے رہے۔میں اسے محسن کشی اور احسان فراموشی سمجھتا ہوں۔جن ایام میں گورداسپور میں مولوی کرم الدین کے مقدمات ہو رہے تھے۔ایک دفعہ دوران مقدمہ میں انہوں نے حضرت کو خط دکھایا۔جو انہیں اپنے گھر پشاور سے آیا تھا۔(خط کیوں لکھا گیا یہ ایک راز ہے۔عرفانی) اور اس میں خرچ کی تنگی کا ذکر کیا۔حضرت نے فوراً پانچ سوروپیہ نفقد اُن کو دے دیا۔اور پھر ماہانہ ایک سو روپیہ ماہوار دیتے رہے۔اور خاص طور پر احباب نے حضرت کی تحریک پر بہت بڑی رقم اخراجات