سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 292 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 292

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۲ ایک ٹر گدا کا قصہ قادیان کے قریب سٹھیالی ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جو قادیان سے قریباً چھ میل کے فاصلہ پر ہوگا۔وہاں سے ایک جٹ فقیر آیا کرتا تھا۔اس کے دیکھنے والے بہت لوگ اب تک موجود ہیں۔وہ مسجد مبارک کی چھت کے نیچے آکر کھڑکی کے پاس آواز لگایا کرتا تھا۔جو بیت الفکر کی مغربی دیوار میں ہے۔اس کی آواز یہ ہوتی تھی ”غلام احمد اروپیہ لینا ہے ، یعنی اے غلام احمد (علیہ الصلوۃ والسلام ) روپیہ لینا ہے۔اور وہ وہاں بیٹھ جاتا۔حضرت صاحب کسی کام میں بعض اوقات مصروف ہوتے اور آپ کی توجہ اس میں ہوتی اور آپ اس کی آواز کو نہ سن سکتے۔تو وہ ہر تھوڑی دیر کے بعد آواز میں لگاتا۔اکثر لوگوں کو نا گوار معلوم ہوتا اور کوئی اسے ٹوکتا تو وہ کہہ دیتا کہ میں تمہارے پاس آیا ہوں ؟ میں تو غلام احمد ( علیہ الصلوۃ السلام ) سے مانگتا ہوں۔حضرت اقدس کو اگر معلوم ہو جاتا کہ کسی نے اسے کچھ کہا ہے تو آپ ناپسند فرماتے اور ہنستے ہوئے اس کو روپیہ دے دیا کرتے۔اور یہ بھی آپ کا معمول تھا کہ سائل کو زیادہ دیر انتظار میں نہ رکھتے تھے۔مرزا میراں بخش کا معاملہ (لگان ) اسی طرح قادیان میں مرزا میراں بخش نام ایک مجنون رہتا تھا وہ کسی کو دکھ نہ دیتا تھا۔حضرت صاحب جب سیر کو نکلتے تو وہ آگے بڑھ کر کہتا ” مرزا جی میرا معاملہ دے دو گویا وہ خراج وصول کرتا ہے۔حضرت صاحب بہت اچھا کہہ کر اس کو کچھ نہ کچھ ضرور دے دیتے اور اس طرح پر پھر وہ آپ کے تمام خدام سے مستقل طور پر اپنا معاملہ وصول کر لیتا۔پیالہ بھر دیا ایک مرتبہ ایک سائل آیا اس نے قادیان میں ایک پھیری لگا دی وہ صبح کو اٹھتا اور حضرت میر حامد شاہ صاحب مرحوم کی نظم