سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 291 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 291

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۲۹۱ عام طور پر آپ حصہ صدقہ کر دیتے تھے صدقہ و خیرات تو آپ کی عادت میں بہت تھا اور عام طور پر آپ کا معمول تھا کہ ۱۰/ حصہ صدقہ کر دیتے تھے۔اس کے متعلق حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کی ایک روایت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت المہدی میں لکھی ہے کہ وو بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود صدقہ بہت دیا کرتے تھے اور عموماً ایسا خفیہ دیتے تھے کہ ہمیں بھی پتہ نہیں لگتا تھا۔خاکسار نے دریافت کیا کہ کتنا صدقہ دیا کرتے تھے؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا بہت دیا کرتے تھے۔اور آخری ایام میں جتنا روپیہ آتا تھا اس کا دسواں حصہ صدقے کے لئے الگ کر دیتے تھے اور اس میں سے دیتے رہتے تھے۔والدہ صاحبہ نے بیان فرمایا کہ اس سے یہ مراد نہیں کہ دسویں حصہ سے زیادہ نہیں دیتے تھے بلکہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ بعض اوقات اخراجات کی زیادت ہوتی ہے تو آدمی صدقہ میں کوتاہی کرتا ہے لیکن اگر صدقہ کا روپیہ پہلے سے الگ کر دیا جاوے تو پھر کوتا ہی نہیں ہوتی کیونکہ وہ روپیہ پھر دوسرے مصرف میں نہیں آسکتا۔والدہ صاحبہ نے فرمایا اسی غرض سے آپ دسواں حصہ تمام آمد کا الگ کر دیتے تھے ورنہ ویسے دینے کو تو اس سے زیادہ بھی دیتے تھے۔خاکسار نے عرض کیا کہ کیا آپ صدقہ دینے میں احمدی غیر احمدی کا لحاظ رکھتے تھے؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا نہیں“۔(سیرت المہدی جلد اوّل روایت نمبر ۵۲ مطبوعه ۲۰۰۸ء) غرض آپ سِرًّا وَ عَلَانِيَةً ہمیشہ جو دو عطا میں مصروف رہتے اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا رمضان کے مہینہ میں آپ کا ہاتھ بہت وسیع ہوتا تھا۔اور اکثر حاجت مندوں کے گھروں میں پہنچاتے تھے اور ایسے طریق پر کہ کسی دوسرے کو علم نہیں ہوسکتا تھا۔لیکن وہ لوگ آپ کے احسانات کا تذکرہ کرتے ہوئے بیان کر دیتے۔