سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 283
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۳ جود و سخا و احسان و عطا جود و سخا کی حقیقت پر ایک نظر ایصالِ خیر کے اخلاق میں سے احسان بھی ایک خلق ہے۔اور اس کے مختلف مدارج اور شعبے ہیں۔اس کا ادنی درجہ یہ ہے کہ نہ احسان کا خیال ہو اور نہ شکر گزاری پر نظر ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی ہمدردی اور نیکی ایک طبعی جوش کے ساتھ ہو۔جیسے والدہ اپنے بچے کے ساتھ نیکی اور ہمدردی کرتی ہے وہ کسی غرض اور تبادلہ احسان کا رنگ نہیں رکھتی یہ اعلیٰ مقام ہے اور اس سے بھی آگے ایک درجہ ہے جو ایثار کہلاتا ہے کہ انسان باوجود اپنی ضروریات کے بھی دوسروں کے آرام آسائش اور ضرورتوں کو اپنے نفس پر مقدم کر لیتا ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان صفات اخلاق کی مختلف مقامات پر خوب تشریح کی ہے اور بخل ، اسراف اور سخاوت میں فرق کر کے دکھایا ہے اور یہ تینوں اخلاق بھی ایک باریک اور دقیق فرق رکھتے ہیں۔کیونکہ مال کی غرض یہ ہے کہ وہ ضرورت اور حاجت کے موقع پر استعمال کیا جاوے۔اگر وہ ضرورت کے وقت صرف نہ کیا جاوے تو بخل ہو جائے گا بےضرورت صرف کیا جاوے تو اسراف ہوگا اور ضرورت کے موقع پر صرف کیا جاوے تو وہ سخاوت ہوگا۔لیکن اس میں پھر ایک بحث ہے کہ ضرورت اور حاجت سے کیا مراد ہے؟ اور سخاوت میں کیا کچھ داخل ہے؟ ضرورت سے مراد جو کچھ حضرت مسیح موعوڈ کے کلام سے اور عمل سے مستنبط ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ضرورت شرعی ہو رواج اور عادت کے ماتحت نہ ہو۔اور سخاوت کے بڑے بڑے اجزا یہ ہیں کہ بن مانگے احساس ضرورت کر کے دیا جاوے۔دے کر احسان نہ کیا جاوے سائل کو دیکھ کر خوش ہو اور اسے جھڑ کے نہیں کسی حالت اور صورت میں کسی امید، طمع ، مبادلہ شکر گزاری اور مدح و ثنا کے خیال سے نہ دیا جاوے اور کسی رسم و عادت کے ماتحت یہ عطا نہ ہو۔قرآن کریم کے مختلف مقامات کو یکجائی نظر سے دیکھنے کے بعد یہی پایا جاتا ہے کہ مال کی یہی