سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 277 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 277

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۷ ہے آپ وقار اور تحمل سے بیٹھے سن رہے ہیں زبان سے یا اشارہ سے اس کو کہتے نہیں کہ بس اب جاؤ۔دوا پوچھ لی اب کیا کام ہے ہمارا وقت ضائع ہوتا ہے وہ خود ہی گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوتی اور مکان کو اپنی ہوا سے پاک کرتی ہے۔ایک دفعہ بہت سی گنواری عورتیں بچوں کو لے کر دکھانے آئیں اتنے میں اندر سے بھی چند خدمتگار عورتیں شربت شیرہ کے لئے برتن ہاتھوں میں لئے آنکلیں۔اور آپ کو دینی ضرورت کے لئے ایک بڑا اہم مضمون لکھنا تھا اور جلد لکھنا تھا۔میں بھی اتفاقاً جا نکلا کیا دیکھتا ہوں حضرت کمر بستہ اور مستعد کھڑے ہیں جیسے کوئی یورپین اپنی دنیوی ڈیوٹی پر چست اور ہوشیار کھڑا ہوتا ہے اور پانچ چھ صندوق کھول رکھے ہیں اور چھوٹی چھوٹی شیشیوں اور بوتلوں میں سے کسی کو کچھ اور کسی کو کوئی عرق دے رہے ہیں اور کوئی تین گھنٹے تک یہی بازار لگا رہا اور ہسپتال جاری رہا۔فراغت کے بعد میں نے عرض کیا حضرت یہ تو بڑی زحمت کا کام ہے اور اس طرح بہت سا قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے۔اللہ اللہ کس نشاط اور طمانیت سے مجھے جواب دیتے ہیں کہ یہ بھی تو ویسا ہی دینی کام ہے یہ مسکین لوگ ہیں یہاں کوئی ہسپتال نہیں میں ان لوگوں کی خاطر ہر طرح کی انگریزی اور یونانی دوائیں منگوا کر رکھتا ہوں جو وقت پر کام آجاتی ہیں اور فرمایا " یہ بڑا ثواب کا کام ہے مومن کو ان کاموں میں سُست اور بے پروا نہ ہونا چاہیے۔“ مصنفہ مولاناعبدالکریم سیالکوٹی صفر ۳۵،۳۴) ادویات خواہ کتنی ہی قیمتی ہوں آپ بے دریغ دے دیتے تھے اور فوراً دے دیتے تھے۔تریاق الہی جب آپ نے تیار کیا اور وہ بہت قیمتی تھا۔ہزاروں روپیہ اس پر خرچ آئے جب کسی نے مانگا تو آپ کافی مقدار میں جھٹ لا کر دے دیتے تھے اور کسی مریض کے لئے جب کسی دوا کی ضرورت ہوئی اور معلوم ہوا کہ آپ کے سوا اور کسی جگہ نہیں ملتی تو فوراً آپ ساری کی ساری اٹھا کر دے دیتے تھے کہ کسی طرح مریض کو فائدہ پہنچے۔مریضوں کو جب آپ ادویات دیا کرتے تھے تو خود