سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 272
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۲ اور مخلصانہ دعائیں کرنے کا ثواب ملنا تھا۔سوم خدا نے چاہا کہ تھوڑی دیر کے لئے دشمن بھی خوش ہو لیں اور اس خوشی سے اپنے لئے وہ سامان پیدا کریں اور اس قضا و قدر کی تحریک کریں جو ان کے لئے مقدر ہے۔چہارم بعض ثواب اور مدارج ہیں جن کا ملنا موقوف تھا ایسی نازک اور جاں گداز حالت پر۔اس بیماری کے اثناء میں جس چیز نے میرے ایمان کو بڑھایا اور اس میں وہ نور بخشا وہ حضرت کا بار بار اپنے احباب کو دعا کی تحریک کرنا تھا۔حضرت بار بار خدام کو عورتوں کو ، جو آپ کے گرد و پیش جمع رہتیں اور باہر خدام کو بار بار کہتے اور کہلا کر بھیجتے کہ دعائیں کرو اور استغفار بہت پڑھو کہ یہ ابتلا کا وقت ہے۔“ (الحکم مورخه امئی ۱۹۰۲ء غیر معمولی نمبر الحکم ) آپ اللہ تعالیٰ کی بے نیازی سے بہت ڈرتے اور اس کے فضل کے لئے دعاؤں کو بہترین ذریعہ یقین کرتے تھے یہ آپ کی ایک بیماری کا نقشہ ہے۔عام طور پر یہی حالت تھی۔بیماری میں آر کی توجہ الی اللہ بہت بڑھ جاتی تھی اور آپ عام طور پر فرمایا کرتے تھے کہ بیمار اقرب الى الله ہوتا ہے۔ایک اور واقعہ ایک مرتبہ آپ بعد نماز مغرب حسب معمول شد نشین پر تشریف فرما تھے اور گرمی کا موسم تھا کہ آپ پر ضعف قلب کا دورہ ہوا۔یکا یک آپ کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے۔آپ نے مشک نکال کر ( جو ہمیشہ رومال میں باندھ کر رکھا کرتے تھے ) کھایا اور گرم پانی منگوایا گیا۔جس میں پاؤں رکھے گئے۔حملہ بہت سخت تھا اس حالت کی خبر پیرا پہاڑ یا ( ملازم حضرت اقدس ) کو بھی ہوئی۔وہ بھاگا آیا اور اس کے پاؤں کیچڑ میں لت پت تھے۔اسی حالت میں آگے چلا آیا۔کسی نے اس کو روکنا چاہا مگر آپ نے فرمایا مت روکو وہ کیا جانتا ہے کہ کیچڑ والے پاؤں سے فرش پر جانا ہے یا نہیں محبت سے آیا ہے آنے دو۔اس وقت تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد آپ سبحان اللہ سبحان اللہ، کہتے تھے اور یہی بات سنے میں آتی تھی۔چہرہ پر تمانیت اور تسلی تھی اور اندر سے جب دریافت کیا جاتا اور بار بار