سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 268
سیرت ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۸ نہیں ہے بلکہ آسمانی ہے اس زمین کے فرزندوں نے تجھے نہیں پہچانا حق تو یہ تھا کہ آنکھیں تیری راہ میں فرش کرتے اور دلوں میں جگہ دیتے کہ تو خدا کا موعود خلیفہ اور حضرت خاتم النبین (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا خادم اور اسلام کو زندہ کرنے والا ہے۔“ مصنفہ حضرت مولا نا عبدالکریم سیالکوٹی" صفہ ۲۲ تا ۲۵) حقیقت میں بیماری انسان کی ایمانی اور قلبی کیفیت کے جانچنے کے لئے ایک امتحان ہوتا ہے اور بہت تھوڑے ہوتے ہیں جو اس امتحان میں پاس ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دوران سر کی عام شکایت تھی اور دوسرے لوگ شناخت بھی نہ کر سکتے تھے۔بعض اوقات مجلس میں بیٹھے ہوئے بھی دورہ ہو جاتا تھا۔مگر کبھی آپ کی زبان سے ہائے وائے نہیں سنا گیا بلکہ اگر کوئی آواز آتی تھی تو سُبْحَانَ الله عزم اور ہمت اتنی بلند تھی کہ جونہی اس سے ذرا سا بھی افاقہ ہوتا پھر بدستور کام میں مصروف ہو جاتے اور شاداں و فرحاں باہر آتے اور کبھی آپ کے چہرہ سے یہ ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ بیماری کے ایک شدید حملہ اور دورہ سے نکل کر آئے ہیں۔بیماری کے مختلف حملے آپ پر ایام بعثت سے پہلے بھی ہوئے ہیں اور بعد میں بھی لیکن کبھی اور کسی حال میں آپ کے طرز عمل میں تبدیلی نہیں ہوئی۔قولنج زحیری سے بیمار ہوئے ۱۸۸۰ء میں آپ تو لنج زحیری سے بیمار ہوئے۔سولہ دن تک برابر خون کے دست آتے رہے اور سخت تکلیف تھی۔مگر باوجود اس سخت تکلیف اور شدت کرب کے نہ تو آپ کے منہ سے ایسا کلمہ نکلا جو خدا تعالیٰ کے شکوہ کا ہو۔یا بے صبری ظاہر ہوتی ہو بلکہ مستقل مزاجی کے ساتھ پڑے رہے اور خدا تعالیٰ کی حمد کرتے رہے۔گھر والوں کو یقین ہو گیا تھا کہ اس مرض سے اب جانبر نہ ہوں گے۔بٹالہ سے مولوی محمد حسین صاحب کے والد شیخ رحیم بخش صاحب عیادت کے لئے آئے اور انہوں نے یہ کہہ کر اور بھی ڈرایا کہ یہ بیماری آج کل وباء کے طور پر پھیلی ہوئی ہے میں بٹالہ میں ایک جنازہ پڑھ کر آرہا ہوں جو اسی بیماری سے فوت ہوا ہے اور قادیان میں میاں فضل الدین حجام کا والد