سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 267 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 267

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۷ ہو جاتے ہیں۔حقیقت میں ایمان اور عرفان اور استقامت کے پرکھنے کے لئے بیماری بڑا بھاری معیار ہے جیسے سکر اور خواب میں بڑ بڑانا اور خواب دیکھنا حقیقی تصویر انسان کی دکھا دیتا ہے بیماری بھی مومن اور کافر، دلیر اور بُزدل کے پرکھنے کے لئے ایک کسوٹی ہے۔بڑا مبارک ہے وہ جو صحت کی حالت میں جوش اور جذبات نفس کی باگ کو ہاتھ سے نکلنے نہیں دیتا۔برادران ! چونکہ موت یقینی ہے اور بیماریاں بھی لابدی ہیں کوشش کرو کہ مزاجوں میں سکون اور قرار پیدا ہو۔اسلام پر خاتمہ ہونا جس کی تمنا ہر مسلمان کو ہے اور جو امید و بیم میں معلق ہے اسی پر موقوف ہے کہ ہم صحت میں ثبات و تثبیت اور استقامت واطمینان پیدا کرنے کی کوشش کریں ورنہ اُس خوفناک گھڑی میں جو حواس کو سراسیمہ کر دیتی اور عقاید اور خیالات میں زلزلہ ڈال دیتی ہے تثبیت اور قرار دشوار ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ (ابراهیم : ۲۸) یہ تثبیت یہی ہے جو میں حضرت خلیفتہ اللہ کی سیرت میں دکھا چکا ہوں۔وہ انسان اور کامل انسان جس پر اس دنیا کی آگ اس دنیا کی آفات اور مکروہات کی آگ یہاں کچھ بھی اثر نہیں کر سکی وہ وہی مومن ہے جسے دوزخ کہے گی کہ اے مومن گزر جا کہ تیرے نور نے میری نار کو بجھا دیا ہے۔اور اے بہشت کو دونوں جیبوں میں اسی طرح موجود رکھنے والے برگزیدہ خدا جس طرح آج کل لوگ جیبوں میں گھڑیاں رکھتے ہیں تو یقیناً خدا سے ہے۔ہاں تو اس کثیف اور مکروہ دنیا کا نہیں ورنہ وجہ کیا کہ یہ دنیا اپنی آفات و امتحانات کے پہاڑ تیرے سر پر تو ڑتی ہے اور وہ یوں تیرے اوپر سے ٹل جاتے ہیں جیسے بادل سورج کی تیز شعاعوں سے پھٹ جاتے ہیں۔لاکھوں انسانوں میں یہ تیرا نرالا قلب اور فوق العادت جمیعت اور سکون اور ٹھہرا ہوا مزاج جو تجھے بخشا گیا ہے یہ کس بات کی دلیل ہے۔یہ اس لئے ہے کہ تو صاف نظر کر پہچانا جائے کہ تو زمینی