سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 266 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 266

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا السلام ۲۶۶ اُسے گھورتا ہے اور بیوی کی تو شامت آجاتی ہے بے چاری کو نہ دن کو آرام اور نہ رات کو چین کہیں تکان کی وجہ سے ذری اُونگھ گئی ہے بس پھر کیا خدا کی پناہ آسمان کو سر پر اٹھا لیا۔وہ بے چاری حیران ہے ایک تو خود چور چور ہو رہی ہے اور ادھر یہ فکر لگ گئی ہے کہ کہیں مارے غضب وغیظ کے اس بیمار کا کلیجہ پھٹ نہ جائے۔غرض جو کچھ بیمار اور بیماری کی حالت ہوتی ہے خدا کی پناہ کون اس سے بے خبر ہے۔برخلاف اس کے سالہا سال سے دیکھا اور سنا ہے کہ جو طمانیت اور جمعیت اور کسی کو بھی آزار نہ دینا حضرت کے مزاج مبارک کو صحت میں حاصل ہے وہی سکون حالت بیماری میں بھی ہے اور جب بیماری سے افاقہ ہوا معاً وہی خندہ روئی اور کشادہ پیشانی اور پیار کی باتیں۔میں بسا اوقات عین اس وقت پہنچا ہوں جب کہ ابھی ابھی سردرد کے لمبے اور سخت دورہ سے آپ کو افاقہ ہوا۔آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا ہے تو مسکرا کر دیکھا ہے اور فرمایا ہے اب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا کہ آپ کسی بڑے عظیم الشان دل کشا نزہت افزا باغ کی سیر سے واپس آئے ہیں جو یہ چہرہ کی رنگت اور چمک دمک اور آواز میں خوشی اور لذت ہے۔میں ابتدائے حال میں ان نظاروں کو دیکھ کر بڑا حیران ہوتا تھا اس لئے کہ میں اکثر بزرگوں اور حوصلہ اور مردانگی کے مدعیوں کو دیکھ چکا تھا کہ بیماری میں کیا چولہ بدل لیتے ہیں اور بیماری کے بعد کتنی کتنی مدت تک ایسے سڑیل ہوتے ہیں کہ الامان کسی کی تقصیر آئی ہے جو بھلے کی بات منہ سے نکال بیٹھے۔بال بچے بیوی دوست کسی او پرے کو دور ہی سے اشارہ کرتے ہیں کہ دیکھنا کالا ناگ ہے نزدیک نہ آنا۔اصل بات یہ ہے کہ بیماری میں بھی ہوش و حواس اور ایمان اُسی کا ٹھکانے رہتا ہے جو صحت کی حالت میں مستقیم الاحوال ہو اور دیکھا گیا ہے کہ بہت سے تندرستی کی حالت میں مغلوب الغضب شخص بیماری میں خالص دیوانے اور شدت جوش سے مصروع