سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 265 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 265

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۵ بیماری اور تیمارداری عیادت اور تعزیت کے سلسلہ میں یہ بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے اس حصہ کو پیش کروں جو بیماری اور تیمار داری کی حالتوں میں آپ کے اخلاق اور کیریکٹر کو ظاہر کرتا ہے۔انسان بیمار ہوتا ہے اور اس کے متعلقین احباب عزیز واقارب میں سے بھی بعض بیمار ہوتے ہیں اور اس کو ان کی تیمارداری کرنی پڑتی ہے ان دونوں حالتوں میں اس کے اندرونی اخلاق اور ایمانی کیفیات کا جو منظر سامنے آتا ہے۔وہ دوسری حالتوں میں ممکن نہیں۔مجھ کو خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں دونوں قسم کے موقع دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے مگر قبل اس کے کہ میں ان واقعات کا ذکر کروں میں مناسب سمجھتا ہوں کہ حضرت مولا نا عبد الکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کے اس پہلو پر جو کچھ تحریر فرمایا ہے اسے یہاں درج کروں آپ فرماتے ہیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے آپ کو سخت در دسر ہورہا تھا اور میں بھی اندر آپ کے پاس بیٹھا تھا اور پاس حد سے زیادہ شور وغل بر پا تھا۔میں نے عرض کیا جناب کو اس شور سے تکلیف تو نہیں ہوتی۔فرمایا ! ہاں اگر چپ ہو جائیں تو آرام ملتا ہے۔میں نے عرض کیا تو جناب کیوں حکم نہیں کرتے فرمایا آپ ان کو نرمی سے کہہ دیں میں تو کہہ نہیں سکتا۔بڑی بڑی سخت بیماریوں میں الگ ایک کوٹھڑی میں پڑے ہیں اور ایسے خاموش پڑے ہیں کہ گویا مزہ میں سورہے ہیں۔کسی کا گلہ نہیں کہ تو نے ہمیں کیوں نہیں پوچھا اور تو نے ہمیں پانی نہیں دیا اور تو نے ہماری خدمت نہیں کی۔میں نے دیکھا ہے کہ ایک شخص بیمار ہوتا ہے اور تمام تیمار دار اس کی بدمزاجی اور چڑ چڑا پن سے اور بات بات پر بگڑ جانے سے پناہ مانگ اٹھتے ہیں اسے گالی دیتا ہے