سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 263 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 263

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۲۶۳ ہی نہیں کرتی کہ ان کے ساتھ مل کر بیٹھیں سوائے اس کے کہ ہم ان کے غلط عقائد کی تردید کریں۔آریہ سماج لاہور کا واقعہ آپ کی زندگی کے آخری سال ۱۹۰۷ ء میں لاہور میں آریہ سماج کا جلسہ تھا اس جلسہ میں انہوں نے مذہبی کا نفرنس کی اور مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اپنا مضمون بھیجنے کی دعوت دی۔چنانچہ آپ نے وہ مضمون لکھا جو چشمہ معرفت کے اول میں چھپا ہوا ہے۔اس مضمون کے سنانے کے لئے حضرت حکیم الامت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ مامور ہوئے اور ایک جماعت آپ کے ساتھ بھیجی گئی۔آریوں نے اپنی نوبت پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں دل آزار کلمات بولے آپ نے جب یہ سنا کہ ہماری جماعت کے لوگ ان کلمات کو سن کر بیٹھے رہے تو آپ نے اظہار ناراضگی فرمایا کہ کیوں جماعت کے لوگ وہاں بیٹھے رہے باوجود یکہ حضرت حکیم الامت کا آپ بہت احترام فرماتے تھے اور ان سے بہت محبت رکھتے تھے مگر اس فرو گذاشت میں جو حاضرین مجلس سے ہوئی تھی آپ نے کسی کی پروا نہ کی اور اظہار ناراضگی فرمایا۔حضرت خلیفہ ثانی بھی اس وفد میں شریک تھے اور وہ اس وقت وہاں سے آنا بھی چاہتے تھے۔مگر ایک دوست نے کہہ دیا کہ راستہ نہیں ہے (اور فی الواقع نہیں تھا ) ان کو بھی اٹھنے نہ دیا۔باوجودیکہ آپ کو بہت محبت کی نگاہ سے دیکھتے تھے مگر یہ غلطی ان کی بھی قابل معافی نہ سمجھی گئی اور ان سے جواب طلب کیا گیا کہ کیوں تم اس مجلس سے نہ اٹھ آئے جہاں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہوئی تھی۔کاش وہ جو عداوت اور مخالفت کی نظروں سے آپ کو اور آپ کے سلسلہ کو دیکھتے ہیں ان واقعات پر غور کریں اور دیکھیں کہ کیا وہ شخص جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اس قد رفتا اور گمشدہ ہے۔وہ انسان جو آپ کے لئے اس قدر غیرت اور جوش رکھتا ہے کہ اپنے عزیزوں سے قطع تعلق کر لیتا ہے محض اس بنا پر کہ ان میں سے کسی نے دانستہ یا نادانستہ سوء ادبی کی وہ جو اپنے اخص مخلص اور وفا دار اور جان شار دوست اور خدا تعالیٰ کی بشارت کے ایک موعود بیٹے اور اپنی