سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 262
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۲ نصیب ہوئی۔آپ جب وہاں سے واپس آئے تو میں رائے ونڈ تک ساتھ تھا۔وہاں آپ نے از راہ کرم فرمایا۔کہ تم ملازم تو ہو ہی نہیں چلو لا ہور تک چلو۔عصر کی نماز کا وقت تھا آپ نماز پڑھنے کے لئے تیار ہوئے۔اس وقت وہاں ایک چبوترہ بنا ہوا کرتا تھا۔مگر آج کل وہاں ایک پلیٹ فارم ہے۔میں پلیٹ فارم کی طرف گیا تو پنڈت لیکھر ام آریہ مسافر جوان ایام میں پنڈت دیانند صاحب کی لائف لکھنے کے کام میں مصروف تھا جالندھر جانے کو تھا کیونکہ وہ غالبا وہاں ہی کام کرتا تھا مجھے سے اس نے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو میں نے حضرت اقدس کی تشریف آوری کا ذکر سنایا تو خدا جانے اس کے دل میں کیا آئی کہ بھاگا ہوا وہاں آیا جہاں حضرت اقدس وضو کر رہے تھے ( میں اس نظارے کو اب بھی گویا دیکھ رہا ہوں۔عرفانی ) اس نے ہاتھ جوڑ کر آریوں کے طریق پر حضرت اقدس کو سلام کہا مگر حضرت نے یونہی آنکھ اٹھا کر سرسری طور پر دیکھا اور وضو کر نے میں مصروف رہے اس نے سمجھا کہ شاید سنانہیں اس لئے اس نے پھر کہا۔حضرت بدستور اپنے استغراق میں رہے۔وہ کچھ دیر ٹھہر کر چلا گیا۔کسی نے کہا کہ لیکھر ام سلام کرتا تھا فرمایا۔” اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی توہین کی ہے۔میرے ایمان کے خلاف ہے کہ میں اس کا سلام لوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر تو حملے کرتا ہے اور مجھ کو سلام کرنے آیا ہے۔“ غرض آپ نے اظہار غیرت کیا اور پسند نہ کیا کہ وہ شخص جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتا ہے میں اُس کا سلام بھی لوں۔جنگ مقدس میں اس خلق کا اظہار اسی سال ۱۸۹۳ء میں امرتسر کے مقام پر عیسائیوں سے مباحثہ ہوا جس کا نام جنگ مقدس رکھا گیا ڈاکٹر پادری مارٹن کلارک نے چائے کی دعوت پر آپ کو اور آپ کے خدام کو بلانا چاہا۔آپ نے محض اس بنا پر صاف انکار کر دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تو بے ادبی کرتے ہیں اور نعوذ باللہ آپ کو جھوٹا کہتے ہیں اور مجھے چائے کی دعوت دیتے ہیں، میں نہیں پسند کرتا۔ہماری غیرت تقاضا