سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 261 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 261

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۲۶۱ کے چہرہ مبارک سے نمایاں تھا۔وہ غصہ سے تمتما رہا تھا۔اس حالت میں آپ کا کھانا بھی چھوٹ گیا محض اس لئے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کیوں بے ادبی ہوئی۔اس قدر رنج آپ کو ہوا کہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا۔مخدومی خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب پنشنر جو اس روایت کے راوی ہیں بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحب کو بہت ہی غصہ تھا اور انہوں نے اس واقعہ سے متاثر ہو کر ان کے ہاں کا کھانا پینا ترک کر دیا۔یہ ایک ہی واقعہ آپ کی زندگی میں نہیں گزرا بلکہ اس قسم کے متعدد واقعات آپ کی زندگی میں ملتے ہیں جن میں غیرت دینی کی شان نمایاں ہے۔اقارب سے قطع تعلق یہ ایک ہی مثال اس امر کی نہیں ہے کہ آپ نے محض غیرت دینی کے جوش سے ایک عزیز سے قطع تعلق کر لیا ہو بلکہ جب کبھی ایسا موقعہ پیش آیا آپ نے اس کی پروا نہیں کی۔آپ کے چچازاد بھائی مرزا امام الدین صاحب کی مجلس میں اسلام سے ہنسی ہوتی تھی اور وہ خود بھی ایسے الفاظ وکلمات اپنی زبان سے نکال دیتے تھے۔جن سے تحقیر دین متین ہو ان باتوں کو دیکھ کر آپ نے ان لوگوں سے قطع تعلق کر لیا اور آخری وقت تک اس پر قائم رہے۔ان سے کوئی ذاتی دشمنی نہ تھی۔بلکہ اگر کبھی کسی موقع پر ان کو تکلیف میں مبتلا دیکھتے یا وہ اپنی کسی مالی ضرورت کے وقت تحریک کرتا تو آپ نے کبھی اس سے مضائقہ نہ کیا اور ان کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھا۔یہ ایسے واقعات ہیں جن کو قادیان کے لوگ عموماً جانتے ہیں۔پنڈت لیکھرام کا واقعہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود فیروز پور سے قادیان کو آرہے تھے ان ایام میں حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم فیروز پور میں مقیم تھے اور اس تقریب پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہاں گئے ہوئے تھے۔خاکسار عرفانی کو (جو ان ایام میں محکمہ نہر میں امید وار ضلعداری تھا اور رکھا نوالہ میں حافظ محمد یوسف ضلعدار کے ساتھ رہ کر کام سیکھتا تھا) بھی فیروز پور جانے کی سعادت