سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 257
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۷ تھے مگر با ایں حضرت صاحب نے اپنے طرز خطاب کو نہ بدلا۔آسمانی فیصلہ کے اخیر میں میر صاحب کے متعلق ایک مبسوط تحریر موجود ہے اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ کس محبت اور دلسوزی سے آپ نے خطاب کیا ہے۔ہندوؤں اور غیر قوموں سے تعلقات اسی طرح پر آپ کے جو تعلقات ہندوؤں یا دوسری اقوام کے ساتھ تھے جہاں تک تمدنی اخلاق کا تعلق ہے آپ نے ہمیشہ ان کو نہایت خوبی اور عمدگی سے نبھایا اور کبھی موقع نہ دیا کہ ان کو قطع کر دیا جاوے۔قادیان کے آریوں میں سے لالہ ملا وامل صاحب زندہ ہیں۔باوجود یکہ مذہبی امور میں سخت مخالفت تھی اور یہ لوگ سلسلہ کی مخالفت میں اپنے ہم قوم اور ہم خیال لوگوں کے ساتھ ہوتے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی اس قسم کی مخالفت کو مدنظر رکھ کر کبھی ان سے ناراضی کا اظہار نہ کیا اور نہ ان تعلقات کو کبھی کم کیا۔برابر ان کی آمد ورفت جاری تھی اور جو خصوصیت ان کو ہمیشہ حاصل تھی وہ حاصل رہی کہ جس وقت چاہتے آکر آپ سے ملتے اور اپنی ضرورتوں کا اظہار کرتے۔اسی طرح پر ایام طالب علمی کے زمانہ سے لالہ بھیم سین صاحب سے آپ کی واقفیت اور دوستی تھی۔پھر سیالکوٹ میں جب آپ کو رہنے کا موقع ملا تو لالہ بھیم سین صاحب بھی وہیں تھے اور اس طرح پر ان کے ساتھ ایک خلت کے تعلقات کا رنگ تھا۔لالہ صاحب آپ کی بے لوث زندگی اور مخلصانہ دوستی کے ہمیشہ مزاح اور آپ کی خدا پرستی اور مقرب باللہ ہو نے کے قائل تھے۔ایک دوسرے کی ضرورتوں اور رنج و راحت میں ہمیشہ شریک رہتے۔چنانچہ جن دنوں گورداسپور میں مقدمات کا ایک سلسلہ جاری تھا۔لالہ بھیم سین صاحب نے اپنے قابل فرزند لالہ کنور سین صاحب ایم۔اے حال حج جموں کی خدمات بطور قانونی مشیر کے پیش کی تھیں۔چونکہ وکلاء کام کر رہے تھے حضرت نے شکریہ کے ساتھ انکار کر دیا۔میں جانتا ہوں کہ لالہ کنورسین صاحب کے دل میں بھی اس عہد دوستی کی ایک عظمت باقی ہے۔بہر حال آپ نے ہمیشہ اس عہد دوستی کی رعایت رکھی اور کسی کو موقع نہیں دیا کہ ان کی طرف