سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 256 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 256

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۶ کھڑے ہو کر نہیں پڑھی جاتی تا ہم افتاں و خیزاں آپ کے پاس پہنچ سکتا ہوں۔بقول رنگین وہ ہ نہ آوے تو تو ہی چل رنگین اس میں کیا تیری شان جاتی ہے میر عباس علی صاحب لود بانوی میر عباس علی صاحب اور ہانوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اُن مخلص خدام میں سے تھے جو اشاعت براہین کے عہد میں خدا تعالیٰ نے آپ کو دیئے تھے اور اس زمانہ میں جس ہمت اور جوش کے ساتھ انہوں نے خدمت کی وہ بے شک قابل قدر ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا پنہانی معصیت اور نخوت تھی جس نے آخر ان کو الگ کر دیا۔مسیح موعود کے دعوی کی اشاعت کے وقت ان کو ابتلا آیا۔اسی طرح پر جیسے مولوی محمد حسین صاحب اس وقت الگ ہوئے۔میر صاحب کا ی ابتلا بھی خدا تعالیٰ کی دی ہوئی پیش گوئی کے مطابق تھا۔( جیسا کہ ان مکتوبات میں درج ہے جو میر صاحب کے نام کے میں نے چھاپے ہیں۔عرفانی ) لیکن باجود اس کے کہ میر صاحب نے مخالفت کا اعلان کیا اور اس مخالفت میں حد ادب اور رعایت اخلاق سے بھی وہ نکل گئے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کسی تحریر یا تقریر میں ان کے تعلق کے عہد کو فراموش نہ کیا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ جالندھر کے مقام پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام میر صاحب کو سمجھا رہے تھے اور اس فروتنی اور انکسار کے ساتھ کہ ایک سنگ دل اور خشونت طبع والا انسان بھی اگر قبول نہ کرے تو کم از کم اس کے کلام میں نرمی اور متانت آجانی چاہیے۔حضرت مسیح موعود جب بھی اس سے خطاب کرتے تو میر صاحب۔جناب میر صاحب! کہہ کر مخاطب کرتے اور فرماتے کہ آپ میرے ساتھ چلیں میرے پاس کچھ عرصہ رہیں خدا تعالیٰ قادر ہے کہ آپ پر حقیقت کھول دے مگر میر صاحب کی طبیعت میں باوجود صوفی ہونے کے خشونت اور تیزی آجاتی تھی۔اور ادب اور اخلاق کے مقام سے الگ ہو کر حضرت سے کلام کرتے