سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 249 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 249

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۹ آپ کی نظر ہمیشہ ہر شخص کی خوبیوں پر ہوتی خواہ وہ کتنی ہی خفیف سی بات کیوں نہ ہوتی۔یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ دیکھو قرآن مجید نے اس کے متعلق کیا نمونہ بتایا ہے۔قمار اور شراب کے متعلق سوال ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے قلیل المقدار نفع کا بھی ذکر کر دیا۔اس میں یہی سبق ہے کہ ادنیٰ سے ادنی خوبی بھی ہو تو انسان اس پر نظر ر کھے۔اور اس کو نظر انداز نہ کرے۔میرا ایک ذاتی واقعہ کسی دوست نے ایک مرتبہ میری کوئی شکایت کی۔میں اپنی کمزوریوں اور غلطیوں میں سب سے بڑھا ہوا تھا اور بڑھا ہوا ہوں اور یہ سچ ہے کہ میں محض خدا تعالیٰ کے فضل سے اور آپ کے محض رحم سے آپ کی خدمت میں حاضر رہا۔اس دوست کو کہا کہ دیکھو اگر مرزا نظام الدین صاحب سے جا کر معاملات کو طے کرانا ہو تو کیا میں خود کر سکتا ہوں۔میاں یعقوب علی یہ کام بہت عمدگی سے کر لیتے ہیں۔وہ معاملہ اس قسم کا تھا۔آپ نے اسی رنگ میں اپنے اس سب سے کمزور خادم کو اس رنگ میں نواز دیا۔غرض آپ کی عادت میں یہ بات تھی کہ آپ اپنے خدام کی طرف سے ہمیشہ ذب کرتے اور کسی کی شکایت نہ سن سکتے تھے۔احباب کے لئے اپنے آرام کو قربان کر دینا انسان کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ خود آرام کو چاہتا ہے اور اس مقصد کے لئے وہ دوسروں کی تکلیف کی بھی پرواہ نہیں کرتا چہ جائیکہ وہ اپنے آرام کو دوسروں پر قربان کر دے یہ خوبی اور کمال ہر شخص میں پیدا نہیں ہوتا۔ایثار مومن کی عادات میں داخل ہے اور حقوق احباب میں یہ ایثار داخل ہے۔احباب کے حقوق میں جن باتوں کی ضرورت ہے وہ یہ ہیں اتحاد و بے تکلفی ہو۔ایثار ہو، احسان و سلوک ہو، اور تعارف ہو۔یہ باتیں جب کسی شخص میں کامل طور پر اپنے دوست کے لئے پائی