سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 244
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۲۴۴ اور مستقیم الاحوال تھے۔اور قادیان میں انہوں نے جو قیام اختیار کیا تھا محض خدا کی رضا کے لئے۔اس کا ذکر میں ابھی حضرت مولانا عبد الکریم کے الفاظ میں کروں گا۔مگر جو واقعہ ان کی اس تبدیلی کا محرک ہوا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے اس حصہ کو واضح کرتا ہے کہ آپ عہد دوستی اور عہد زوجیت کا احترام نہ کرنے والے سے ناراض ہو جاتے ہیں۔لیکن وہ ناراضگی محض خدا کی رضا اور اپنے خادم کی اصلاح کے لئے ہوتی تھی۔بابو محمد افضل افریقہ میں ملازم تھے اور بہت خوشحال اور فارغ البال تھے سلسلہ کے کاموں میں خصوصیت سے حصہ لیتے اور تبلیغ کا ایک جوش ان کے دل میں تھا۔ان کی دو بیویاں تھیں اور وہ قادیان میں رہتی تھیں ۱۸۹ء میں انہوں نے حضرت حکیم الامت کو ایک خط لکھا اور کچھ روپیہ بھیجا اور اپنی ایک بیوی کو افریقہ بلایا اور ی بھی لکھ دیا کہ جو بیوی آنے سے انکار کرے اس کو طلاق دے دی جاوے۔حضرت مولوی صاحب نے یہ خط حضرت اقدس کے حضور پیش کر دیا۔آپ نے فرمایا کہ وہ تو جب طلاق دے گا مگر اُسے لکھ دو کہ ایسے شخص کا ہمارے ساتھ تعلق نہیں رہ سکتا کیونکہ جو اتنے عزیز رشتہ کو ذراسی بات پر قطع کر سکتا ہے وہ ہمارے تعلقات میں وفاداری سے کیا کام لے گا۔یہ ارشاد اکسیر ہو گیا اور محمد افضل کو فی الحقیقت افضل بنا گیا۔حضرت اقدس کی ناراضگی کی جب اطلاع ہوئی تو اسے سمجھ آگئی کہ باہمی تعلقات کی کیا قیمت ہوتی ہے۔اور اس نے دنیا کے تمام مالوفات کو چھوڑ کر یہ پسند کیا کہ ایسے ہی محسن اور اعلیٰ اخلاق کے انسان کی صحبت ہے جہاں باقی زندگی بسر کرنی چاہیے چنانچہ وہ دنیا کی تمام امیدوں اور امنگوں کو یکسر چھوڑ کر آگئے اور پھر انہوں نے وہ تبدیلی کی کہ حیرت انگیز ہے میں اس کا ذکر حضرت مخدوم الملت کے الفاظ میں کر دیتا ہوں۔اس مرحوم بھائی (محمد افضل) کی لائف کا گہرا مطالعہ کر کے مجھے ایک بات عجیب نظر آئی ہے اور وہی اس قابل ہے کہ طالبان حق وارشاد کے لئے اسوہ اور نمونہ بنے۔گزشتہ زندگی میں جہاں تک مجھے معلوم ہے ہمارا یہ مالوف و مرحوم بھائی کبھی نہ تو