سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 243
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام عہد دوستی کی رعایت ۲۴۳ ایک دن آپ نے عہد دوستی کے متعلق فرمایا کہ میرا یہ مذہب ہے کہ جو شخص ایک دفعہ مجھ سے عہد دوستی باندھے مجھے اُس عہد کی اتنی رعایت ہوتی ہے کہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو اور کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے میں اس سے قطع نہیں کر سکتا ہاں اگر وہ خود قطع تعلق کر دے تو ہم لا چار ہیں ، ورنہ ہمارا مذ ہب تو یہ ہے کہ اگر ہمارے دوستوں سے کسی نے شراب پی ہو اور بازار میں گرا ہوا ہو اور لوگوں کا ہجوم اس کے گرد ہو تو بلا خوف لَوْمَةَ لائِم کے اُسے اٹھا کر لے آئیں گے۔فرمایا۔عہد دوستی بڑا قیمتی جو ہر ہے اس کو آسانی سے ضائع کر دینا نہ چاہیے۔اور دوستوں سے کیسی ہی ناگوار بات پیش آجاوے اُسے اغماض اور تحمل کے محل میں اتارنا چاہیے۔مصنفہ حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی حاشیہ صفحہ ۴۶) اس سے حضرت مسیح موعود کے دل میں عہد دوستی کی جو قدرو قیمت ہے اس کا بآسانی اندازہ ہو جاتا ہے اور آپ اس شخص کو بہت ہی ناپسند فرماتے تھے جو اس عہد کی رعایت نہ کرتا اس کے متعلق میں آپ کی زندگی کا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔مرحوم محمد افضل کا واقعہ با بومحمد افضل صاحب رضی اللہ عنہ سلسلہ کے مخلص نو جوانوں میں سے تھے۔عہد دوستی کے لحاظ سے اور ہم عصر ہونے کی وجہ سے اُن کا مجھ پر حق ہے اور آج انیس برس کے بعد میں اس حق کا بہت ہی تھوڑا حصہ ادا کرتا ہوں اور اُسے مُردوں کی صف سے نکال کر زندہ جاوید احباب کی صف میں کھڑا کرنا چاہتا ہوں۔مرحوم محمد افضل کے مفصل حالات کا یہ موقع نہیں مگر میں اتنا کہوں گا کہ وہ نہایت مستقل مزاج