سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 237 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 237

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ودعلیہ السلام ۲۳۷ فرمایا یہ اس الہام کی بناء پر ہے کہ ”میں خدا کی تقدیر پر اضی ہوں“۔اور پھر چار دفعہ یہ الہام بھی ہوا تھا۔اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا۔اور پھر ” ہے تو بھاری امتحان مگر خدائی امتحان کو قبول کر۔اور پھر لائف آف پین (Life Of Pain) یعنی تلخ زندگی۔فرمایا۔اگر یکجائی نظر سے دیکھا جائے تو ایک انسان بھی انکار نہیں کر سکتا۔صاف نشان اور پھر پیدا ہوتے ہی الہام ہوا تھا اِنِّی اَسْقُطُ مِنَ اللَّهِ وَاصِيَبُهُ میرے دل میں خدا نے اسی وقت ڈال دیا تھا۔تب ہی تو میں نے لکھ دیا تھا یا یہ لڑکا نیک ہوگا اور رو بخدا ہوگا اور خدا کی طرف اس کی حرکت ہوگی اور یا یہ جلد فوت ہو جائے گا۔کوئی بد معاش اور راستی کا دشمن ہو تو اور بات ہے۔مگر یکجائی طور پر نظر کرنے سے ایک دشمن بھی مان جائے گا کہ یہ جو کچھ ہوا ہے خدائی وعدوں کے مطابق ہوا ہے۔اور پھر یہ الہام بھی ہوا تھا۔اِنِّی مَعَ اللهِ فِي كُلِّ حَالٍ۔اب بتلاؤ ایسی صاف بات سے انکارکس طرح ہو سکتا ہے۔اصل میں ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے۔اگر انسان عمدہ عمدہ کھانے گوشت پلاؤ اور طرح طرح کے آرام اور راحت میں زندگی بسر کر کے خدا کو ملنے کی خواہش کرے تو یہ محال ہے۔بغیر امتحان ترقی محال بڑے بڑے زخموں اور سخت سے سخت ابتلاؤں کے بغیر انسان خدا کومل ہی نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنكبوت:۳) غرض بغیر امتحان کے تو بات بنتی ہی نہیں اور پھر امتحان بھی ایسا جو کہ کمر کو توڑنے والا ہو۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑھ کر مشکل