سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 235
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۵ آرام کو مدنظر رکھتا ہے۔مگر جب خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی امتحان پڑتا ہے اور کوئی ابتلا آتا ہے تو وہ رگ اور پیٹھے کا لحاظ رکھ کر نہیں آتا۔خدا کو اس کے آرام اور رگ پیٹھے کا خیال مد نظر نہیں ہوتا۔انسان جب کوئی مجاہدہ کرتا ہے تو وہ اپنا تصرف رکھتا ہے مگر جب خدا کی طرف سے کوئی امتحان آتا ہے تو اس میں انسان کے تصرف کا دخل نہیں ہوتا۔انسان خدا تعالیٰ کے امتحان میں بہت جلد ترقی کر لیتا ہے اور وہ مدارج حاصل کر لیتا ہے جو اپنی محنت اور کوشش سے کبھی حاصل نہیں کر سکتا۔اسی واسطے اُدعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ میں اللہ تعالیٰ نے کوئی بشارت نہیں دی مگر وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَى۔۔۔۔۔الآية (البقرة: ۱۵۶) میں بڑی بڑی بشارتیں دی ہیں اور فرمایا ہے کہ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی بڑی برکتیں اور رحمتیں ہوں گی اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔غرض یہی طریق ہے جس سے انسان خدا تعالیٰ کو راضی کر سکتا ہے نہیں تو اگر خدا تعالیٰ کے ساتھ شریک بن جاوے اور اپنی مرضی کے مطابق اُسے چلانا چاہے تو یہ ایک خطرناک راستہ ہوگا جس کا انجام ہلاکت ہے۔ہماری جماعت کو منتظر رہنا چاہیے کہ اگر کوئی ترقی کا ایسا موقع آجاوے تو اس کو خوشی سے قبول کیا جاوے۔آج رات کو ( مبارک احمد نے ) مجھے بلایا اور اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیا اور مصافحہ کیا جیسے اب کہیں رُخصت ہوتا ہے اور آخری ملاقات کرتا ہے۔جب یہ الہام نِّيْ اَسْقُطُ مِنَ اللهِ وَاصِيْبُهُ “ ہوا تھا تو میرے دل میں کھٹکا ہی تھا۔اسی واسطے وو 66 میں نے لکھ دیا تھا کہ یا یہ لڑکا نیک ہوگا اور رو بخدا ہوگا یا یہ کہ جلد فوت ہو جائے گا۔قرآن شریف پڑھ لیا تھا۔کچھ کچھ اردو بھی پڑھ لیتا تھا اور جس دن بیماری سے افاقہ ہوا میر اسا را اشتہار پڑھا اور یا کبھی کبھی پرندوں کے ساتھ کھیلنے میں مشغول ہو جا تا تھا۔فرمایا۔” بڑا ہی بد قسمت وہ انسان ہے جو خدا تعالیٰ کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتا ہے۔خدا تعالیٰ کے ساتھ تو دوست والا معاملہ چاہیئے۔کبھی اس کی مان لی اور کبھی