سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 218
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا صاحبزادی عصمت کی وفات ۲۱۸ حضرت کی نسل سیدہ (حضرت ام المومنین نصرت جہاں بیگم صاحبہ ) میں سب سے پہلی اولاد عصمت تھی۔یہ وہ لڑکی تھی جس کی پیدائش پر دشمنوں نے بہت شور مچایا تھا کہ بیٹے کی بشارت تھی لڑکی پیدا ہوئی۔اس کی پیدائش اور وفات دونوں ایک قسم کے ابتلا تھے۔پیدائش پر مخالفین نے قسم قسم کے دکھ دینے والے اشتہار دیئے۔استہزا اور ٹھٹھا کیا گیا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کی سنت کو جانتے تھے کہ خدا کے پیاروں پر ہنسی کی جاتی تھی۔آپ خدا تعالیٰ کی بشارت فرزند پر ایمان رکھتے تھے اور اس وقت بھی اعلان کرتے تھے کہ ضرور بیٹا ہو گا۔یہ تو الہام میں نہیں تھا کہ ابھی ہوگا یا اس حمل سے ہوگا بہر حال اس شماتت و استہزا میں بھی اپنے مولیٰ کریم سے اسی طرح خوش تھے۔آخر وہ لڑکی لودہانہ میں بیمار ہوئی اور اُسے ہیضہ ہو گیا۔آپ اس کے علاج میں اس قدر مصروف تھے کہ ایک سرسری دیکھنے والا گمان کرے کہ آپ سے زیادہ اولاد کی محبت کسی کو نہ ہوگی اور بیماری میں اس قدر توجہ کرتے ہیں اور تیمارداری اور علاج میں اس قدر محو ہوتے ہیں کہ گویا اور کوئی فکر ہی نہیں مگر بار یک بین دیکھ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور خدا کے لئے اس کی ضعیف مخلوق کی پرورش اور رعایت مد نظر ہے۔غرض عصمت کے بیمار ہونے پر آپ اُس کے علاج میں یوں دوا کرتے کہ گویا اس کے بغیر زندگی محال ہے اور ایک دنیا دار دنیا کی عرف و اصطلاح میں اولاد کا بھوکا اور شیفتہ اس سے زیادہ جانکا ہی نہیں کر سکتا۔مگر جب وہ مرگئی آپ یوں الگ ہو گئے کہ گویا کوئی چیز تھی ہی نہیں۔اور جب سے کبھی ذکر تک ہی نہیں کیا کہ کوئی لڑکی تھی۔یہ مصالحت اور مسالمت خدا کی قضا و قدر سے بحجر منجانب اللہ لوگوں کے اور سے ممکن نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صاحبزادی عصمت کی وفات سے جہاں تک بشریت کا تعلق ہے گونا صدمہ ہوا جو اسی حد تک تھا مگر خدا تعالیٰ کی مقادیر سے کامل صلح اور مسالمت تھی اور آپ خدا کے اس فعل پر خوش و خرم تھے آپ کی خوشی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پہلے سے صاحبزادی مرحومہ کے متعلق آپ کو الہام بھی ہو گیا تھا۔"كَرَمُ الْجَنَّةِ دَوْحَةُ الْجَنَّةِ “ جس کی