سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 217
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۷ صبر اور رضا بالقضا یہ نہایت عالی مقام ہے جو ہر شخص کو میسر نہیں آتا۔صبر بظاہر تو ایک نیچرل اور طبعی امر ہے جو انسان کو ان مصیبتوں اور دکھوں اور بیماریوں پر کرنا پڑتا ہے جو اس پر ہمیشہ پڑتے رہتے ہیں اور انسان بہت سے سیاپے اور جزع فزع کے بعد صبر اختیار کرتا ہے مگر یہ صبر کوئی اخلاق میں داخل نہیں اور نہ انسان کے اخلاقی کمال کا ثبوت اور نہ کسی نیکی کے رنگ میں اجر کا موجب ہوسکتا ہے بلکہ وہ ایک طاقت ہے جو تھک جانے کے بعد ضرور تا خود بخود ظاہر ہو جاتی ہے۔کیونکہ انسان یہ قدرت اور قوت نہیں رکھتا کہ ایک طویل زمانہ تک اس مصیبت پر ماتم کرتا رہے۔بلکہ طبعی حالتوں میں سے یہ بھی ایک حالت ہے کہ مصیبت کے ظاہر ہونے کے وقت رو تا چیختا ، سر پیٹتا ہے۔آخر بہت سا بخار نکال کر جوش تھم جاتا ہے اور انتہا تک پہنچ کر پیچھے ہتا ہے پس یہ طبعی حرکت ہے۔اخلاق سے اس کو کچھ تعلق نہیں بلکہ اس کے متعلق خلق یہ ہے کہ جب کوئی چیز اپنے ہاتھ سے جاتی رہے تو اس چیز کو خدا تعالی کی امانت سمجھ کر کوئی منہ پر نہ لاوے اور یہ کہے کہ خدا کا تھا اور خدا نے لے لیا اور ہم اس کی رضا کے ساتھ راضی ہیں۔یہ ابتلا اور مصائب کبھی خوف کے رنگ میں کبھی بھوک کے رنگ میں کبھی نقصان مال و جان اور کبھی نقصان ثمرات و نتائج کی صورت آتے ہیں جن میں اولاد کی اموات بھی ہوتے ہیں۔پس اگر ان ابتلاؤں میں اس کی زندگی ایک مومن اور وفادار مومن کی ہے اور وہ صابر اور رضا بالقضا کے مقام پر کھڑا ہے تو قابل عزت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر قسم کے ابتلا اور مشکلات آئے مگر ان مصائب اور مشکلات نے آپ کے صبر اور رضا بالقضا کے مقام سے نیچے کو جنبش نہیں دی۔پہاڑ کی طرح آپ اپنے مقام پر کھڑے رہے بلکہ آگے ہی آگے بڑھتے گئے۔میں واقعات سے دکھاتا ہوں کہ آپ نے اپنے اخلاق کے اعجازی نمونے اس شعبہ اخلاق میں کس طرح دکھائے۔