سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 213 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 213

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۳ جیسے کہ اس زمانہ کے بعض نادان شکایت کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ دنیا کی محبت کو طلاق دے چکے تھے وہ ہر وقت مرنے کے لئے تیار تھے۔تو پھر بیوی بچوں کی ان کو کیا پروا تھی۔وہ ایسے امور کے واسطے کبھی دعائیں نہ کراتے تھے اور اسی واسطے ان میں کبھی شکایتیں بھی پیدا نہ ہوتی تھیں۔وہ دین کی راہ میں اپنے آپ کو قربان کر چکے ہوئے تھے۔“ حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی کی بہو کی تعزیت حضرت سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدراسی سلسلہ کے ان مخلصین اور سَابِقُونَ الْأَوَّلُون میں سے تھے جو حضرت اقدس کو بہت ہی عزیز تھے۔جنہوں نے سلسلہ کی اعانت میں بڑی مالی قربانیاں کیں اور بالآخر بڑے خطرناک مالی ابتلاؤں میں بلوئے گئے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت اور آپ کی دعاؤں نے آپ کے قلب کو مطمئن اور آپ کے ایمان کو زندہ ایمان بنا دیا تھا۔یہ امر آپ کو ان مکتوبات سے بخوبی معلوم ہو سکتا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو لکھے ( یہ مجموعہ الْحَمدُ لِلہ ایڈیٹر الحکم نے چھاپ دیا ہے ) انہیں مالی ابتلاؤں کے درمیان ان کو یہ صدمہ بھی پیش آیا کہ ان کے پیارے بیٹے سیٹھ احمد کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا۔حضرت مسیح موعود السلام نے اس موقعہ پر تعزیت کے دو خط سیٹھ صاحب کو لکھے۔میں اس باب کو انہیں مکتو بات پر ختم کر دیتا ہوں۔پہلا خط مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سَلَّمَهُ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آج آپ کی تار کے ذریعہ سے یک دفعہ ایک غم کی خبر یعنی واقعہ وفات عزیزی سیٹھ احمد صاحب کی بیوی کا سُن کر دل کو بہت غم اور صدمہ پہنچا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ