سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 212
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۲ میں ممتاز اور مختص کر دیا۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ تعلقات صہری قائم ہوئے۔سیرت کے اس حصہ میں نواب صاحب کے فضائل پر بحث کرنا مقصود نہیں مگر میں واقعات کی اس شہادت کو مخفی نہیں رکھ سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہدایات پر عمل کرنے کا یہ ثمرہ ہے اور الہام الہی پر ایمان لا کر صبر ورضا کے مراحل طے کر کے اس امتحان میں پورا تر نے کا یہ اجر ہے۔خان صاحب ذوالفقار علی خان صاحب کی اہلیہ کلاں کی تعزیت ۲۲ جولائی ۱۹۰۵ء کو مکرمی خان صاحب ذوالفقار علی خان صاحب کی اہلیہ کلاں کی وفات کا ذکر آیا تو آپ نے جناب مفتی محمد صادق صاحب کو ارشاد فرمایا کہ ” ہماری طرف سے ان کو تعزیت نامہ لکھ دیں کہ صبر کریں موت فوت کا سلسلہ لگا ہوا ہے۔صبر کے ساتھ اجر ہے۔فرمایا قبولیت دعا حق ہے لیکن دعا نے موت فوت کے سلسلہ کو بھی بند نہیں کیا۔تمام انبیاء کے زمانہ میں یہی حال ہوتا رہا ہے۔وہ لوگ بڑے نادان ہیں جو اپنے ایمان کو اس شرط سے مشروط کرتے ہیں کہ ہماری دعا قبول ہو اور ہماری خواہش پوری ہو۔ایسے لوگوں کے متعلق قرآن شریف میں آتا ہے۔وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللهَ عَلَى حَرْفٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرُ إِطْمَانَ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةُ انْقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةَ ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ (الحج: (١) - یعنی بعض لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ایک کنارے پر کھڑے ہو کر کرتے ہیں۔اگر اس کو بھلائی پہنچے تو اس کو اطمینان ہو جاتا ہے اور اگر کوئی فتنہ پہنچے تو منہ پھیر لیتا ہے۔ایسے لوگوں کو دنیا اور آخرت کا نقصان ہے اور یہ نقصان ظاہر ہے۔فرمایا صحابہ کے درمیان بھی بیوی بچوں والے تھے اور سلسلہ بیماری اور موت فوت کا بھی ان کے درمیان جاری تھا۔لیکن ان میں ہم کوئی ایسی شکایت نہیں سنتے۔