سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 211
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۱ علیہ وسلم بہت ہی غمگین ہوتے تھے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ران پر ہاتھ مارتے تھے اور فرماتے تھے۔اَرِحُنَا يَا عَائِشَة یعنی اے عائشہ میں خوش کر کہ ہم اس وقت غمگین ہیں۔اس سے ثابت ہے کہ اپنی پیاری بیوی۔پیارا رفیق اور انیس عزیز ہے جو کہ اولا د کی ہمدردی میں شریک غالب اور غم کو دور کرنے والی اور خانہ داری کے معاملات کی متوتی ہوتی ہے۔جب وہ ایک دفعہ دنیا سے گزر جاتی ہے تو کیسا صدمہ ہے اور کیسی تنہائی کی تاریکی چاروں طرف نظر آتی اور گھر ڈراؤنا معلوم ہوتا ہے اور دل ٹکڑے ٹکڑے ہوتا ہے۔سواس الہام میں خدا تعالیٰ نے یہی یاد دلایا ہے کہ اس صدمہ سے دین میں قدم آگے رکھو۔نماز کے پابند اور سچے مسلمان بنواگر ایسا کرو گے تو خدا جلد اس کا عوض دے گا اور غم کو بھلا دے گا۔وہ ہر ایک بات پر قادر ہے یہ الہام تھا اور پیغام تھا اس کے بعد آپ ایک تازہ نمونہ دین داری کا دکھلائیں۔خدا برحق ہے، اور اس کے حکم برحق ، تقویٰ سے غموں کو دور کر دیتا ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد نومبر ۱۸۹۸ء ) مکتوبات احمدیہ جلد پنجم حصہ پنجم صفحه ۳۰۴٬۳۰۳ مطبوعه ارجون ۱۹۴۴ء) اس تعزیت کے خط نے حضرت نواب صاحب کی حالت بدل دی اور واقعات بتلاتے ہیں کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس تعزیت نامہ سے ایک زندگی کی روح پائی جو ان کو نیچے کی طرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف اٹھا کر لے گئی اور اس کا زندہ ثبوت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو وہ شرف اور عزت دی جو دنیا میں کسی اور کے حصہ نہیں آسکتی۔اس امتحان کے بعد پھر انہوں نے حضرت کے منشا کے موافق دوسری شادی کی اور وہ خاتون نیک دل بھی خدا کی مشیت کے ماتحت اور بطور ایک نشان کے فوت ہو گئی۔تب اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے وہ سامان پیدا کیا جس نے ان کو دنیا