سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 205
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۵ حضرت مسیح موعود کا مقام خدا کی محبت میں سوار سو آپ یہ اللہ جل شانہ کا احسان سمجھیں کہ اس نے اپنی محبت کی طرف آپ کو بلایا۔عَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (البقرۃ: ۲۷) اور نیز ایک جگہ فرماتا ہے۔مَا أَصَابَ مِنْ مُّصِيبَةِ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ وَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (التغابن :۱۲) یعنی کوئی مصیبت بغیر اذن اور ارادہ لہی کے نہیں پہنچتی اور جو شخص ایمان پر قائم ہو خدا تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے۔یعنی صبر بخشتا ہے اور اس مصیبت میں جو مصلحت اور حکمت تھی وہ اسے سمجھا دیتا ہے اور خدا کو ہر ایک چیز معلوم ہے۔میں انشاء اللہ آپ کے لئے دعا کروں گا۔اور اب بھی کئی دفعہ کی ہے۔چاہیے کہ سجدہ میں اور دن رات کئی دفعہ یہ دعا پڑھیں۔غیر اللہ کی محبت سے نجات کی دعا يَا أَحَبُّ مِنْ كُلِّ مَحْبُوبِ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَتُبْ عَلَيَّ وَادْخِلْنِي فِي عِبَادِكَ الْمُخْلَصِينَ۔آمین والسلام خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۱۵رفروری ۱۸۸۸ء الحکم مورخه ۱ را گست ۱۹۰۱ء صفحه ۹ مکتوبات احمد جلد ۲ صفحه ۵۳۹٬۵۳۸ مطبوعه ۲۰۰۸ء)