سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 203
برت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٢٠٣ سندرداس کی تعزیت کا خط چوہدری صاحب کے نام چوہدری رستم علی صاحب کو سندر داس نام ایک نوجوان کے ساتھ محبت تھی وہ سمجھتے تھے کہ وہ مسلمان ہو جائے گا اور یہ محبت انکی ایک عشق کا رنگ رکھتی تھی۔اس کے لئے وہ حضرت اقدس کو خطوط بھی لکھتے رہتے تھے وہ بیمار ہوا اور فوت ہو گیا۔چوہدری صاحب کو اس کا صدمہ اپنے کسی عزیز سے کم نہ ہوا۔حضرت اقدس نے تعزیت نامہ اس وفات پر لکھا وہ بہت ہی سبق آموز اور مؤثر ہے۔آپ نے نہ صرف ایک بلکہ متواتر دو تعزیت نامے لکھے جن کو میں یہاں درج کرتا ہوں۔پہلا خط تعزیت بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مکر می اخویم منشی رستم علی صاحب سَلَّمَهُ - السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۱۳ ۱۴ فروری ۱۸۸۸ء کی گزشتہ رات مجھے آپ کی نسبت دو ہولناک خواہیں آئی تھیں جن سے ایک سخت ہم و غم و مصیبت معلوم ہوتی تھی۔میں نہایت وحشت وتر ڈو میں تھا کہ یہ کیا بات ہے اور غنودگی میں ایک الہام بھی ہوا کہ جو مجھے بالکل یاد نہیں رہا چنانچہ کل سندر داس کی وفات اور انتقال کا خط پہنچ گیا، إِنَّ لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی غم تھا جس کی طرف اشارہ تھا۔خدا تعالیٰ آپ کو صبر بخشے۔(1) ترا با ہر کہ رودر آشنائی است قرار کارت آخر برجدائی است (۲) ز فرقت بردلے باری نباشد که با میرنده اش کار نباشد ترجمہ۔ا۔تجھے جس کسی سے بھی دوست کا تعلق ہے اس کا انجام آخر جدائی ہے۔۲۔اس شخص کی جدائی سے دل کو صدمہ نہیں ہوتا جسے مرنے والے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔