سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 188
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۸ طرح کا پانی جاڑوں میں پیتے تھے۔اس بیماری میں چونکہ شروع سے ہی تپ کی شکایت ساتھ ساتھ رہی بعض اوقات حرارت زیادہ ہو جاتی تھی مولوی صاحب کو برف کی بہت ضرورت محسوس ہوتی تھی اس لئے حضرت اقدس نے ان کے لئے یہ التزام کیا ہوا تھا کہ اکٹھی دو تین من برف منگوا لیتے اور پھر جب وہ قریب ختم کے ہوتی تو اور آدمی لاہور یا امرتسر بھیج کر اتنی ہی برف منگواتے اور اس ذخیرہ کو کم نہ ہونے دیتے۔جس وقت کہ مولوی صاحب کا انتقال ہوا ایک من کے قریب برف موجود تھی اور مولوی یار محمد صاحب اور برف لانے کے لئے حضرت کے حکم سے لاہور جانے کو تیار تھے کہ یہ حادثہ ہو گیا۔مولوی صاحب کو چونکہ بہت ضعف ہو گیا تھا کوئی بوجھل غذا ہضم نہ کر سکتے تھے اس لئے ایک مہینے سے زائد عرصہ سے رات کے لئے حضرت اقدس تین چار مرغ کی یخنی ہر روز تیار کرواتے اور بکرے کے گوشت کا جگ سوپ اس کے علاوہ اکثر تیار کر وا دیتے۔بعد میں حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی گئی کہ یہ یخنی وغیرہ جو دی جاتی ہے اس میں مقدار بہت ہوتی ہے۔مگر اصل طاقت کا جزو کم ہوتا ہے۔انگلینڈ سے تیار ہو کر ایک قسم کا گوشت کاست آتا ہے۔( وائیتھ صاحب کا پرفکیڈ بیف جوس Wythe's Beef juice) وہ مدت تک مولوی صاحب مرحوم کو دیا گیا۔ایک شیشی جس میں قریب دو اونس (ایک چھٹانک ) کی غذا ہوتی تھی۔تین روپیہ میں آتی۔حضرت اقدس نے اس کی کئی شیشیاں ان کے لئے خریدیں۔بلکہ جس وقت مولوی صاحب کا انتقال ہوا برادرم شیخ رحمت اللہ نے تین شیشیاں اسی غذا کی مولوی صاحب کے لئے بھیجی تھیں جو خاکسار کو پہنچیں۔شیخ صاحب کو مولوی صاحب مرحوم سے خاص محبت و اخلاص رہا ہے۔چونکہ پہلی شیشیاں اس غذا کی قریب اختتام کے تھیں میں نے شیخ صاحب کو لکھا تھا کہ جلدی بھیج دیں انہوں نے فورا ہی اس کی تعمیل کی اور اس