سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 187
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۷ ایسے ہی اللہ تعالیٰ کے اسرار قدرت کو دیکھنے کے لئے جو ایک وراء الوراء ہستی ہے یہ آنکھیں بے کار ہیں۔جب تک کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک دور بین آنکھ عطا نہ ہو ایسے ہی جو لوگ خدا کی طرف سے مامور ہو کر آتے ہیں ان کی معرفت کا بھی حاصل کرنا خدا کے فضل کے سوائے ناممکن ہے۔ہر زمانہ میں ہر ایک رسول اور مجد د کے وقت میں لوگوں نے اپنی عدم معرفت کے سبب ٹھو کر کھائی ہے اور قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم سے یہی سنت اللہ ہے اس لئے میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس امت محمدیہ کو پہلوں کے نمونہ سے سبق حاصل کرنے کی توفیق دے تاکہ وہ اس امام برحق کی مخالفت سے اس خدا کے عذاب کے نیچے نہ دیں۔آمین۔اور وہ مستہر تین میں سے نہ بنیں اور خدا کے خوف اور خشیت کو اپنے دلوں میں جگہ دیں۔آمین۔(۱) سامان جو مہیا کیا گیا جن لوگوں نے قادیان دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جس کی آبادی قریباً چار پانچ ہزار ہے۔وہاں پر معمولی ضروریات کا مہیا ہونا بھی مشکل ہے چہ جائیکہ ایسے بیمار کے لئے ہر ایک ضروری چیز بہم پہنچ سکے۔مگر حضرت اقدس مرزا صاحب نے اس عزیز کی تیمارداری میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔مولوی صاحب جس چیز کے کھانے کی خواہش ظاہر کرتے حضرت اقدس فوراً آدمی بھیج کر لاہور یا امرتسر سے منگوا دیتے یا اگر یہ خاکسار یا خلیفہ صاحب یا مولوی نورالدین صاحب کسی دوائی یا خاص غذا کے لئے عرض کرتے یا خود حضرت اقدس ان کے لئے کوئی چیز تجویز کرتے تو فوراً امرتسر یالا ہور سے منگوا لیتے۔مولوی صاحب کے لئے انگور ، سردے، انار، وغیرہ ہر ایک قسم کا پھل ہر وقت موجود رہتا۔مولوی صاحب کو صحت میں بھی ٹھنڈے پانی سے ہمیشہ بڑی محبت رہی ہے یہاں تک کہ موسم سرما میں بھی چھت کے اوپر پانی رکھوا چھوڑتے تھے۔اور وہی یخ کی