سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 186 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 186

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۱۸۶ ایثار کا اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ اور توکل کا نمونہ دکھا یا وہ ایک اہل بصیرت کے لئے کافی ثبوت ہے۔حضرت اقدس کے من جانب اللہ ہونے کا اور خدا تعالیٰ کے ساتھ ان کا سچا تعلق ہونے کا اور اس بات کا کہ اگر کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ آج امت میں دیکھنا چاہے تو حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی سے بڑھ کر اور کوئی نہیں۔چاہے کوئی تمام دنیا میں ڈھونڈ ھے اور میں بعض امور کو پیش کرتا ہوں۔اگر چہ میں نے حضرت اقدس کے کمال اخلاق اور محبت اور مہربانی کا نمونہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ میں بیان کرسکوں۔اور حضرت اقدس نے اپنے ایک عزیز مخلص دوست کو بے آرامی میں پا کر جو اپنے نفس پر باوجود اس قد رضعف اور بڑھاپے اور کمزوری کے ہر ایک قسم کا آرام حرام کر دیا تھا۔اور ان کو اس عزیز کے لئے جو تڑپ اور دلی توجہ اور اضطراب تھا میں نہیں جانتا کہ میں اس کو کس طرح بیان کروں اور کن الفاظ میں ظاہر کروں البتہ ہمارے دلوں پر اس کا ایک نقشہ ہے اور ہماری روح اور ایمان کو اس سے ایک تروتازگی پہنچی ہے جو خدا کے فضل سے قیامت تک مٹنے والی نہیں اور اگر کوئی اہل دل دلوں پر نظر ڈال کر حقائق معلوم کر سکتا ہے تو ہم حاضر ہیں اگر باور نہ ہو تو ہمارا سینہ چاک کر کے دیکھ لے۔ماسوائے اس کے حضرت اقدس کو خدا تعالیٰ کی جناب میں تضرع اور نیاز اور خشوع و خضوع نہایت درجہ کا تھا۔دن اور رات میں حضرت صاحب کا بہت کم حصہ ایسا گزرتا ہوگا جو حضرت احدیت کے حضور میں دعا سے خالی ہو۔اور بعض دفعہ کئی کئی گھنٹہ دعا میں مصروف رہتے اور سجدہ سے سر نہ اٹھاتے۔میں نہیں جانتا کہ یہ نقشہ کس طرح سے پبلک کے سامنے پیش کروں کہ وہ حضرت اقدس کے تبتل الی اللہ اور ان کے خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلقات کو سمجھ سکیں۔اس میں شک نہیں کہ جیسے کہ اس عالم کے بار یک در بار یک راز اور حقائق قدرت کو دیکھنے کے لئے ایک دور بین یا خوردبین کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے سوا ہماری آنکھیں بے کار ہیں۔