سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 185 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 185

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۵ حضرت صاحب کی خدمت میں اطلاع دینے کی ضرورت ہوتی تھی اور دن میں کئی دفعہ ایسا موقع ہوا کہ جب مولوی محمد علی صاحب یا ایک دو اور احباب کے سوائے کوئی نہ ہوتا تھا۔حضرت اقدس کو مولوی صاحب کی بیماری میں جو تبدیلیاں ہوتی تھیں ان کو اُن سے اطلاع دی جاتی تھی۔ہر ایک دفعہ جب ہم اطلاع دیتے حضرت اقدس خود تشریف لاتے اور حال دریافت کرتے اور بعض اوقات خود بخود تشریف لاتے اور مولوی صاحب کا حال معلوم کرتے۔اس لئے خاکسار کو خدا کے فضل سے مولوی صاحب کی اس علالت میں حضرت اقدس کے اخلاق اور ان کی محبت اور ایثار جو ان کو اپنے خدام کے لئے ہے اس کے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا ہے۔بعض اوقات ہم نے حضرت اقدس کو سخت کرب اور گھبراہٹ اور ابتلاء کی گھڑیوں میں مولوی صاحب کی نازک حالت کی اطلاع دی ہے جبکہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہمارا وہ پیارا رفیق جس نے اپنی ہر ایک خواہش پر اللہ تعالیٰ کی رضا اور خدمت دین کو مقدم کیا ہوا تھا اور ہمارا وہ حبیب جس نے کہ اپنے وجود کے ایک ایک ذرہ کو امام معصوم اور ہادی برحق کی راہ میں ایک بار نہیں بلکہ صد ہزار بار شمار کیا ہوا تھا اور جو اپنے دل سے ہر ایک دوست کا قدر دان تھا۔جس کو کہ وہ دیکھتا کہ اسے اعلائے کلمۃ اللہ واشاعت دین کے لئے ادنی سا بھی جوش ہے اس وقت ہم دیکھتے تھے کہ وہ نو جوان جو اپنے شہر کا اور اپنے ملک کا اور اپنی قوم کا اور اسلام کا فخر تھا کہ اس کی کشتی عمر ایسی سخت بیماری کے طوفان میں تلاطم میں پڑی ہے۔اصل میں یہ وقت ہوتا ہے کسی کی بچی محبت اور اخلاص کو پرکھنے کا اور نیز اس بات کا کہ اسے خدا تعالیٰ کی قوت پر کیسا ایمان ہے اور اس کا تعلق خدا کے ساتھ کیسا ہے کیونکہ ایسی نازک حالت میں خصوصاً جبکہ معالج ڈاکٹر اور طبیب بھی پاس کے عالم میں ہوں سوائے ایسے لوگوں کے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے صاف کیا ہو کوئی ثابت قدم نہیں رہ سکتا اور حضرت اقدس نے مولوی صاحب کی بیماری میں اپنی کمال محبت اور