سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 182 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 182

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۲ مسیح میں اپنے روحانی فرزند کے لئے پایا۔پھر آپ اندر تشریف لے گئے۔کچھ مشک لائے۔فرمایا کہ مولوی صاحب کو دو۔پھر آپ دعا میں مشغول ہو گئے۔کہا کہ ہمارے پاس سب سے بڑا ہتھیار دعا کا ہی ہے اور فرمایا کہ خدا کے فضل سے نا اُمید نہ ہونا چاہیے وہ چاہے تو مردہ میں جان ڈال دے اُس کو سب قدرت ہے مشک بھی دیا گیا۔پیشتر اس کے اس سے بہت زیادہ طاقتو را دو یہ دی جا چکی تھیں۔بلکہ جلد میں بذریعہ ہائی پوڈ رلک سرنج Hypoderlic Syringe ( یعنی باریک پیچکاری ) دی جا چکی تھی۔کچھ اثر نہ ہوا تھا۔مگر میں اس بات کا شاہد ہوں اور ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب گواہ ہیں کہ ادھر حضرت مسیح موعود نے دعا کے لئے سجدہ میں سر رکھا اور ادھر مولوی صاحب کی حالت جو نہایت خطر ناک تھی اصلاح پکڑنے لگی اور ابھی حضرت دعا سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ نبض بالکل درست اور طاقتور ہوگئی جیسے کہ کبھی کوئی ضعف نہ تھا۔اس وقت ڈاکٹر محمدحسین صاحب کے منہ سے بے اختیار یہ کلمہ نکلا کہ ان کی نبض کا درست ہونا ایک معجزہ ہے"۔میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ اس حالت کے بعد اس ضعف کی حالت میں اور دل کے بالکل رہ جانے کے بعد کسی کا دل قوی ہو گیا اور حالت درست ہوگئی ہو۔“ (الحکم مورخه ۳۱ /جنوری ۱۹۰۶ ء صفحه ۴ ) یہ صرف ایک دن کی حالت کا نقشہ پیش کیا گیا ہے ورنہ حضرت اقدس کی حالت ان ایام میں جو کچھ تھی میں احکام میں اس کی تفصیل لکھ چکا ہوں۔اس دن سے کہ مولوی صاحب پر عمل جراحی کیا گیا رات کا سونا تقریباً حرام ہو گیا تھا با وصفیکہ چوٹ لگنے اور بہت سا خون نکل جانے کی وجہ سے حضرت اقدس کو تکلیف تھی اور دوران سر کی بیماری کی شکایت تھی لیکن یہ کریم النفس وجود ساری رات رب رحیم کے حضور مولانا مولوی عبدالکریم صاحب کے لئے دعاؤں میں لگا رہا۔یہ ہمدردی اور ایثار ہر شخص میں نہیں ہوسکتا۔خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں اور