سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 178 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 178

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام السلام ۱۷۸ سے چلی جاتی ہے۔میرے گھر میں ایوب بیگ کے لئے سخت بیقرار ہیں اس وقت ان کو بھی اس تار کی خبر نہیں دے سکتا کیونکہ کل سے وہ بھی مبتلا ہیں اور ایک عارضہ حلق میں ہو گیا ہے مشکل سے اندر کچھ جاتا ہے۔اس کے جوش سے آپ بھی ہو گیا ہے وہ نیچے پڑے ہوئے ہیں اور میں اوپر کے دالان میں ہوں۔میری حالت تحریر کے لائق نہ تھی لیکن تار کے درد انگیز اثر نے مجھے اٹھا کر بٹھا دیا۔آپ کا اس میں کیا حرج ہے کہ اس کی ہر روز مجھ کو اطلاع دیں معلوم نہیں کہ جو میں نے ایک بوتل میں دوار وانہ کی تھی وہ پہنچی یا نہیں ریل کی معرفت روانہ کی گئی تھی اور مالش معلوم نہیں ہر روز ہوتی ہے یا نہیں۔آپ ذرہ ذرہ حال سے مجھے اطلاع دیں اور خدا بہت قادر ہے۔تسلی دیتے رہیں۔چوزہ کا شور با یعنی بچہ خورد کا ہر روز دیا کریں۔معلوم ہوتا ہے کہ دستوں کی وجہ یہ ہے کہ کمزوری نہایت درجہ تک پہنچ گئی ہے۔والسلام ۲۵ / اپریل ۱۹۰۰ ء خاکسار مرزا غلام احمد ( عَلَيْهِ الصَّلوةُ وَالسَّلام) یہ خط ہمدردی اور غمخواری کا ایک مرقع ہے جو آپ کے قلب میں اپنے مخلص خدام کے لئے تھی۔خود بیمار ہیں۔گھر میں بیمار ہیں۔مگر اپنے ایک عزیز خادم کی علالت کی خبر پا کر بیقرار ہو جاتے ہیں اور اگر اس حالت میں دیکھنے کی طاقت رکھتے تو اپنی بیماری کی ذرہ بھی پروانہ کر کے جانے کو آمادہ ہیں۔ممکن ہے کہ نادان کو یہ خیال پیدا ہو کہ اس قدر رقت قلبی، شجاعت اور استقلال کو کم کر دیتی ہے۔مگر ایسا خیال بے ہودہ اور فضول ہو گا اس لئے کہ شجاعت اور قلبی قوت کے ظہور و بروز کا یہی ایک موقع نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے دوسرا مقام ہے۔اس کیفیت کا مشاہدہ اس وقت کرو جبکہ وہ دشمنوں کے نرغہ میں گھرا ہوا ہے اور ہر قسم کی مشکلات اور مصائب کے حملے آپ پر ہورہے ہیں مگر یہ کوہ وقار انسان اپنی جگہ سے جنبش نہیں کرتا اور ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔اسی کتاب میں ان قوتوں اور اخلاق کے مشاہدات دوسری جگہ پیش کئے گئے ہیں یہ رقت انتہائی محبت اور دلسوزی کا نتیجہ ہوتی ہے۔